نئے سعودی ولی عہد ’’مین فارایوری تھنگ ‘‘۔

muhammad bin salman

ریاض: محمد بن نائف کی جگہ  مقرر کیے جانے والے سعودی عرب کے نئے ولی عہد محمد بن سلمان بیک وقت نائب وزیراعظم ، وزیردفاع اور اقتصادی ترقی کونسل کے صدر بھی ہیں۔ محمد بن سلمان  دو ہزار سات میں سعودی کابینہ میں ماہرین کونسل کے مشیر اور دوہزار پندرہ میں خادم الحرمین الشریفین کے مشیر مقرر ہوئے۔ قانون میں گریجویٹ کی ڈگری لینے والے محمد بن سلمان کو اہم عہدوں اور طاقت ور شخصیت کی بدولت سفارتی حلقوں میں ’’مین فارایوری تھنگ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔

محمد بن سلمان کو یمن سعودی عرب جنگ، توانائی سے متعلق عالمی پالیسی ۔۔ اور  تیل ختم ہونے کے بعد ریاست کے مستقبل سے متعلق منصوبوں کے لئے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔  انہیں سعودی تیل کمپنی آرمکو میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل ہے ۔ نئے ولی عہد سعودی عرب کے وژن دو ہزارتیس کے نگراں بھی ہیں جس کا مقصد تیل اور گیس کی برآمد پرانحصار کم کرناہے ۔

news-300415-3_0nnnn

واضح رہے کہ  سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اپنے بھتیجے ستاون سالہ شہزادہ محمد بن نائف کی جگہ اپنے بیٹے اکتیس سالہ شہزادہ محمد کو ولی عہد مقرر کیا ہے۔ شہزادہ محمد بن نائف سے نائب وزیراعظم اور وزارت داخلہ کا قلمدان بھی واپس لے لیا گیا۔شاہ سلمان نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نائب وزیراعظم کا عہدہ بھی دیا ہے جبکہ ان کے پاس وزیردفاع کا قلمدان بھی برقرار رہے گا۔ محمد بن سلمان سعودی نوجوانوں میں خاصے مقبول ہیں۔

بڑے اعلان سے پہلے شاہ سلمان نے جانشینی کمیٹی سے مشاورت کی  اور چونتیس میں سے اکتیس ممبران نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا۔ شاہ سلمان نے 29 اپریل 2015 کو تخت سنبھالنے کے بعد اپنے سوتیلے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کی جگہ  بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد مقرر کیا تھا۔ سابق ولی عہد محمد بن نائف نے نئے ولی عہد سے وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

SAUDI KING

King Salman bin Abdulaziz

MOHAMMAD BIN SALMAN

rown Prince Mohammed Bin Naif

Tabool ads will show in this div