جب سچ بولنا جرم بن جائے

FSD UNIVERSITY PKG 13-06 ASIF

جامعات میں کیا ہورہا ہے، وہ پچھلے کچھ عرصے سے عیاں ہوتا جارہا ہے۔ زیادہ دور نہیں جاتے، ماضی قریب کی بات کر لیتے ہیں ۔اسلامک یونیورسٹی میں ایک سرکلر لگا کہ دو لڑکیاں ایک ساتھ بیڈ پر نہیں لیٹ سکتی ۔اگر ایسا کیا گیا تو جرمانہ ہوگا۔ یہ فیصلہ انتظامیہ کی ذہنیت کو عیاں کرگیا ۔

شاہ عبد الطیف یونیورسٹی میں خواتین اور مردوں پر یہ پابندی لگا دی گئی کہ وہ یونیورسٹی میں ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے ۔یہ جامعات بھی کیسے لوگ چلا رہے ہیں، بتانے کے لئے کافی ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء گروپوں کے درمیان تصادم ہوا، سب نے دیکھاکہ اس کے پیچھے وجہ علاقائی بنیادوں پر بننے والی تنظیمں ہیں۔یہ سب وفاق میں بانی پاکستان کے نام پر بنائی ہوئی یونیورسٹی میں ہوا۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی ۔

پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت اور پشتون طلباء کے درمیان تصادم ہوا جو سب نے دیکھا ۔اس واقعے نے یہ کھل کر بتا دیا کہ ہماری جامعات میں لسانی علاقائی اور سیاسی گروہ بندیاں موجود ہیں اور ان طالب علموں کو کچھ  بڑوں کا آشیر باد حاصل ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ اس صورتحال کو قابو کرنے میں ناکام نظر آئی ۔

Wali Uni Main Campus 22-05

دوسرا اندوہناک واقعہ عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں پیش آیا جہاں یونیورسٹی انتظامیہ نے خود قتل کا پلاٹ تیار کیا اور اس میں یونیورسٹی کے طالب علموں کو ساتھ ملا کر ایک بے قصور طالب علم مشال خان کا قتل کیا گیا۔اس کا قصور صرف فیس بک پر اور ٹی وی انٹرویو میں یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنانا تھا۔اس تنقید کی پاداش میں مشال خان کے لئے درس گاہ کو قتل گاہ بنا دیا گیا ۔

ہم بچوں کو اعلی تعلیم کے لیے جامعات میں کیوں بھیجتے ہیں، صرف اس لئے کہ وہ اپنے تجسس کو سوالوں کے ذریعے سے دور کریں ۔ان کے دل و دماغ کے دریچے علم کی روشنی سے کھل جائیں۔ لیکن یہ کیا ہماری جامعات میں تو سوال کرنے کی اجازت نہیں اور تنقید کرنے پرتو اب جان بھی لے لی جاتی ہے ۔لیکن صوبائی عصبیت لسانیات اور نفرت کو ہوا دینے والے اتنے مضبوط ہیں کہ جامعات کی انتظامیہ کے پر جلتے ہیں ۔

صفورا گوٹھ،سبین محمود قتل میں ملوث دہشتگرد ایک اعلی تعلیمی ادارے کا گریجویٹ ہے۔ داعش کی اعلی کار بننے والی نورین ایک بڑے میڈیکل کالج کی طالب علم  رہی ۔ کیا یونیورسٹی کی انتظامیہ  اوراساتذہ کو یہ نہیں معلوم کہ ان کی ناک کے نیچے کیا ہورہا ہے۔ بچے انتہا پسندی کی طرف کیوں راغب ہورہے ہیں ۔

UNIVERSITY MULAZIM BPR 14-04

لیکن ہوتا کچھ نہیں بچوں کو انتہا پسندی کی طرف لیے کر جانے والوں کے ہاتھ بڑے ہیں ۔ جب کہ  جامعات کے کرتا دھرتا صرف اس بات کی کھوج میں لگے رہتے ہیں ان کے خلاف کون تنقید کررہا ہے کون نہیں۔عہد ٹیکنالوجی میں یہ جامعات نہیں چاہتی کہ ان کے طالب علم سوشل میڈیا کا استعمال کریں ۔یونیورسٹی پر تنقید کرنا گناہ کبیرہ ہے لیکن صوبائیت لسانیت مار پیٹ قتل جاسکتا ہے۔

یہ کچھ ہی ابھی فیصل آباد میں ہوا جہاں  زرعی یونیورسٹی کے6 طالب علموں نے فیس بک پر انتظامیہ پر تنقید کی اور اس قصور کی وجہ سے انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ سماء ٹی وی کی ٹیم ان طالب علموں کی کوریج کے لئے گئی جو وائس چانسلر کے اس آمرانہ فیصلے کے خلاف احتجاج کررہے تھے تو یونیورسٹی انتظامیہ کے ایما پر گارڈز نے سماء کی میڈیا ٹیم پر حملہ کردیا اور میڈیا کے دیگر نمائندوں کو بھی دوران روزے میں  زدوکوب کیا ۔گارڈز نے سماء کے رپورٹر یوسف چیمہ،مدثر نذر، ڈی ایس این جی انجینئر عمیر،کیبل بوائے عامر ،این ایل ای حیدر علی، ڈرائیور ارشاد،کیمرہ مین قدیر رحمان،رضوان صابری کو لہو لہان کردیا ۔سماء کی ڈی ایس این جی کو نقصان پہنچایا اور کیمرے مائیک توڑ دیے۔

FSD Agriculture Phadda 20-06

یہ آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ بولنے کی آزادی پر کاری ضرب ہے لیکن ہماری جامعات میں بولنے کی آزادی ہے کب؟۔سیاسی بھرتیوں اور نااہل افراد کی وجہ سے ہماری جامعات بہت پیچھے رہ گئی ہیں ۔ حکومت کی طرف سے جھوٹی ہمدردی تو دکھائی گئی لیکن تاحال واقعےکی رپورٹ درج نہیں ہوئی۔

کیو ایس ورلڈ رینکنگ میں ہماری کوئی یونی ورسٹی شامل نہیں۔ اس وقت سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ ہم کتنے پیچھے ہیں اس میں ہماری حکومت ،جامعات اور انکی انتظامیہ، پروفیسر صاحبان اور آلہ کار طالب علم برابر کے شریک ہیں ۔

خدارا پروفیسر صاحبان اپنے اور طالب علموں کے درمیان فاصلہ کم کریں اور انہیں ایک اچھا پاکستانی بنا کر عملی میدان میں لائیں ۔اگر یونین  قائم کرنی ہے تو سیاسی وابستگی، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر نہیں صرف پاکستانی تشخص پر ان کی  بنیاد رکھی جایے۔ایک ہجوم کو باہر نا نکلیں ایک قوم کو ملکی ترقی کا حصہ بننے کے لئے تیار کریں ۔

لیکن جب تک یونیورسٹیوں کی باگ ڈور کرپٹ اور سفارشی لوگوں کے ہاتھ میں ہے، پاکستانی جامعات کبھی بھی عالمی سطح پر ٹاپ ٹین کی رینکنگ میں نہیں آسکتی ۔

PUNJAB

education system

Tabool ads will show in this div