چیمپئنزٹرافی، میاں صاحِب تاریخ ایسے رقم ہوتی ہے

LONDON, ENGLAND - JUNE 18:  Pakistan lift the ICC Champions Trophy after beating India during ICC Champions Trophy Final between India and Pakistan at The Kia Oval on June 18, 2017 in London, England.  (Photo by Gareth Copley/Getty Images)
LONDON, ENGLAND - JUNE 18: Pakistan lift the ICC Champions Trophy after beating India during ICC Champions Trophy Final between India and Pakistan at The Kia Oval on June 18, 2017 in London, England. (Photo by Gareth Copley/Getty Images)
Pakistan's Mohammad Amir celebrates the wicket of India's Virat Kohli during the ICC Champions Trophy final at The Oval, London. (Photo by John Walton/PA Images via Getty Images)
Pakistan's Mohammad Amir celebrates the wicket of India's Virat Kohli during the ICC Champions Trophy final at The Oval, London. (Photo by John Walton/PA Images via Getty Images)
LONDON, ENGLAND - JUNE 18:  Hardik Pandya of India screams in frustration after being run out during the ICC Champions trophy cricket match between India and Pakistan at The Oval in London on June 18, 2017  (Photo by Clive Rose/Getty Images)
LONDON, ENGLAND - JUNE 18: Hardik Pandya of India screams in frustration after being run out during the ICC Champions trophy cricket match between India and Pakistan at The Oval in London on June 18, 2017 (Photo by Clive Rose/Getty Images)
LONDON, ENGLAND - JUNE 18: Pakistan lift the ICC Champions Trophy after beating India during ICC Champions Trophy Final between India and Pakistan at The Kia Oval on June 18, 2017 in London, England. (Photo by Gareth Copley/Getty Images)

اور بالآخر وہ دِن آہی گیا جب پاکستانی قوم نے کرکٹ کے میدان میں اپنے شاہینوں کے ہاتھوں روایتی حریف بھارت کو تاریخ کی بدترین شکست فاش سے دوچار ہوتے دیکھا، یقیناً بین الاقوامی کرکٹ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی جیت پاکستان اور پاکستانی قوم کے لیے عظیم الشان فتح ہے، ایک طویل عرصے بعد کھیل کے میدان میں پاکستانی شاہینوں نے بھارتی سورماؤں کو دھول چٹائی ہے، اُس کے تکبر کو پاش پاش کرکے سرفراز الیون نے دنیا کو یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے، جو نااُمیدی اور مایوسی کو اپنے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیتی۔ جو ہر روز ایک نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ اپنی صبح کرتی ہے، جو گر کر سنبھلنا اور سنبھل کر جھپٹنے کا ہنر خوب جانتی ہے. اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتی جب تک اپنے مخالف کو زیر نہ کر دے، اُس کے گھمنڈ کو ریزہ ریزہ نہ کر دے. ظلم و بربریت کے بت کو پاش پاش نہ کر دے۔

جہاں ایک جانب اظہرعلی، فخر زمان، بابراعظم، نے اپنی شاندار بلے بازی سے دشمن کے چھکے چھڑا دئیے وہیں محمد عامر، حسن علی، جنید خان اور شاداب جیسے بہترین باؤلرز نے دشمن کے ہوش اڑھا دئیے، ایک طرف فخر زمان نے مین آف دی میچ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تو دوسری جانب حسن علی ایونٹ کے بہترین باؤلر کا تاج اپنے سر پر سجاکر گولڈن بال کے حقدار قرار پائے۔

4-9

شاباش میرے شاہینوں، آج تم نے دشمن کو عبرتناک شکست سے دوچار کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، جس کے لیے تمھاری جس قدر داد و تحسین کی جائے کم ہے، تم قوم کے اصلی ہیرو ہو تاریخ رقم کرنے والے قوم کے سچے سپوت ہو۔

LONDON, ENGLAND - JUNE 18: Hardik Pandya of India screams in frustration after being run out during the ICC Champions trophy cricket match between India and Pakistan at The Oval in London on June 18, 2017 (Photo by Clive Rose/Getty Images)

قارئین کیا آپ نے ایک پل کے لیے یہ سوچا کہ ایک طویل عرصے پے در پے شکست کھانے کے بعد ہمیں یہ تاریخی فتح کس طرح نصیب ہوئی، اِس کے پیچھے وہ کیا عوامل ہیں کہ بالآخر ہم اپنے روایتی دشمن کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے؟ تو جان لیجئیے اِس کامیابی کے پیچھے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پچھلے دوسالوں میں منعقد کرائے گئے پاکستان سپر لیگ کے وہ ایونٹ ہیں جس نے ہمیں کرکٹ کی دنیا کے ایسے بیش قیمت موتی دیئے کہ جس کی بدولت آج ہم کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ چیمپینز ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کرنے والے شاہینوں میں سے سات نئے کھلاڑی ہیں جنھوں نے ٹیم میں نہ صرف نیا جوش اور ولولہ بھرا بلکہ ایک ٹیم ورک کے ذریعے ایک مضبوط اور منظم ٹیم کے طور پر سامنے آئے۔ یہ یقیناً پاکستان سپر لیگ کا کمال ہے جس سے نئے کھلاڑیوں کو اپنے اندر موجود ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا متوقع ملا. جس کا سہرا پاکستان کرکٹ بورڈ کی قیادت سمیت پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی کو جاتا ہے۔ یقیناً ہمیں اُن کے اِس مثبت کردار کو سراہا جانا چاہیے، جہاں تک بات ہے ٹیم میں پرانے کھلاڑیوں کی تو آج محمد حفیظ اور محمد عامر جیسے کھلاڑی بھی نئے کھلاڑیوں کے جذبوں کے دیکھا دیکھی اپنے اندر وہی جذبہ پیدا کرنے پر مجبور ہوئے۔

Pakistan's Mohammad Amir celebrates the wicket of India's Virat Kohli during the ICC Champions Trophy final at The Oval, London. (Photo by John Walton/PA Images via Getty Images)

یقیناً کسی بھی شے میں تحریک قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس میں جمود کو طاری نہ ہونے دیا جائے۔ کسی بھی چیز کو تعمیری بنانے کےلیے یا اُس سے مثبت نتائج حاصل کرنے کےلیے ضروری ہے کہ اُس میں جہدِ مسلسل کو جاری رکھا جائے۔ جیسے ایک صحت مند انسان کے لیے ضروری ہے کہ اُس کی رگو میں دوڑتے خون میں شامل سیل ایک خاص مدت تک اپنا کام کریں اور اسکے بعد اسکی جگہ نئے سیل لے لیں تاکہ جسم صحتمند طور پر اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔ پاکستان سپر لیگ کا سالانہ انعقاد قومی ٹیم میں نئے سیلز کی صورت ٹیم میں نئے جذبے اور ولولے کی ضمانت ہے۔ اس کا تسلسل جاری رہنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہی بات قوم کے حکمرانوں پر لازم ہوتی ہے۔ اگر ملک میں جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اُس کے تسلسل کے خواں ہیں۔ برسوں سے جاری جمود کو ٹوڑنا چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ جمہوری میدان میں بھی نئے سیاسی بازیگروں کا جنم ہو تو پھر جمہوری روایات کو اپناتے ہوئے جمہوریت کی اصل روح شہری حکومتوں کے نظام کو نافظ کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے برسوں سے جاری جمود کو توڑا جاسکتا ہے۔ اور ملک کی تعمیر و ترقی کی نئی راہیں متعین کی جاسکتی ہیں۔ میاں صاحِب آج سرفراز الیون نے تو چیمپئنز ٹرافی جیت کر دشمن کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرکے تاریخ رقم کردی۔ اب آپ بھی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرکے جمہوریت پر برسوں سے جاری جمود کو توڑ کر تاریخ رقم کردیں۔

Champions Trophy 2017

Tabool ads will show in this div