مجرم شفقت حسین کی پھانسی کافیصلہ چیلنج،سماعت کل ہوگی

ویب ایڈیٹر:


اسلام آباد : پانچ  سال کے بچے کے قتل کے مجرم شفقت حسین نے پھانسی کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیا گیا ہے، درخواست کی سماعت کل ہوگی۔

پانچ سال کے کم سن بچے کو بے دردی سے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والے سفاک درندہ صف مجرم شفقت حسین نے پھانسی کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیا ہے،  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا، اپنی درخواست میں سفاک مجرم شفقت حسین نے رحم اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کرنے کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مجرم شفقت حسین کی پھانسی کا حکم اسلام آباد ہا ئی کورٹ نے برقرار رکھا تھا، جب کہ اس سے پہلے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے شفقت حسین کو موت کی سزا سنائی تھی، جسے حکومت پاکستان کے حکم پر روک دیا گیا تھا، خیال رہے کہ شفقت حسین کو 14 جنوری کو سزائے موت دی جانی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل متعدد بار مجرم شفقت حسین کی پھانسی مؤخر اور ڈیتھ وارنٹ معطل کیے گئے ہیں۔ جس کے بعد بالا آخر مجرم شفقت حسین کی پھانسی کیلئے نو جون 2015 علی الصبح 04:30 کی تاریخ اور وقت مقرر کیا گیا۔     

پس منظر :
مجرم شفقت حسین کو کراچی میں سال 2004 میں بچے اغوا، بے دردی سے زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی، جس وقت مبینہ طور پر اس کی عمر چودہ برس تھی۔

سزا پر ردعمل :
پاکستان میں انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے شفقت حسین سے تشدد کے ذریعے اعترافی بیان حاصل کیا تھا۔ دوسری جانب کراچی میں یورپی یونین کے 5 رکنی وفد نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے ملاقات کی، جس میں سزائے موت کے مجرم شفقت حسین کی پھانسی رکوانے کا مطالبہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ شفقت حسین کی پھانسی رکوانے کا اختیار نہیں، تاہم وزیراعظم نواز شریف کو اس حوالے سے خط لکھ سکتا ہوں۔

وزیراعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں کالعدم طالبان کے حملے میں132 بچوں سمیت ایک سو پچاس افراد کی شہادت کے بعد کیا، جس کے بعد شفقت حسین کا نام ان 17 افراد کی ابتدائی فہرست میں شامل رہا، جسے وزیراعظم کی جانب سے دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے اعلان کے بعد پھانسی دینے کیلئے منتخب کیا گیا۔ پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت نے برسرِاقتدار آنے کے بعد پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ سماء

کی

child marriage

guinea

qualify

olympic

restrictions

Tabool ads will show in this div