سینیٹرمشاہدکااعتزازاحسن کو کھراجواب،پی پی دوریاد کراکے آئینہ دکھا دیا

Nov 30, -0001

ویب ایڈیٹر:


اسلام آباد : پاکستان مسلم لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے سینیٹ میں اعتزاز احسن کے اعتراز پر ترکی بہ ترکی جواب دے کر پیپلزپارٹی کو آئینہ دکھا دیا۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین رضا ربانی کی زیر صدارت شروع ہوا تو ہم جماعت رکن سینیٹر اعتزاز احسن نے حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بل پر تبصرہ کرنا اپنا حق جانا اور شدید تنقید کا نشانہ بنایا، نہ صرف وزیر خزانہ بلکہ صدر مملکت پر بھی طنز کے نشتر چلائے۔

جواب میں پاکستان مسلم لیگ کے سینیٹر اور رہنما مشاہد اللہ خان نے وہ جواب دیئے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اپنا سا منہ لے کر رہ گئے، سینیٹر مشاہد اللہ نے اعتزاز احسن کی تنقید پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی ٹیکس کی بات کرتے ہوئے آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کو بھول جاتے ہیں، سینیٹر اعتزا احسن کو مخاطب کرتے ہوئے مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ آپ بار وکیل ہیں اور ایل این جی کا لائسنس بھی آپ کے پاس ہے، شاید اس لیے زیادہ ٹیکس دیتے ہوں گے۔

مشاہد اللہ خان کا مزید کہنا تھا کہ آج سے پہلے صدر ہاؤس میں کیا ہوتا رہا بتانا نہیں چاہتا، اکتوبر 2012 میں ایک میٹنگ ہوئی صدر نے پوچھا کہ مال بنالیا، ایک صاحب نے کہا کہ میں نے مال نہیں بنایا، اسے کراچی کمپنی کا ایک پلاٹ 35 کروڑکا دے دیا، جب کہ اس پلاٹ کی مالیت اربوں روپے میں تھی، ہمارے صدر نے آپ کی طرح بی بی کے خون کا سودا نہیں کیا، میں آپ کو اصلیت بتا کر شرمندہ نہیں کرنا چاہتا۔

ایک موقع پر پیپلزپارٹی کو آئینہ دکھاتے ہوئے مشاہد اللہ نے کہا کہ آپ کے دور میں اسٹیل ملز کا جنازہ نکل گیا تھا، اور وہ دیوالیہ ہو گئی تھی، یہ ہماری ہی حکومت ہے جس نے اسے سنبھالا اور ترقی کی جانب لے کر گئی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر آپ لوگوں کی تنقید بلا وجہ اور بے بنیاد ہے، آپ لوگوں کو تو خوش ہونا چاہیئے کہ حکومت نے آپ کی لیڈر کو عزت دی، اس پروگرام کا نام نہیں تبدیل کیا گیا، ہماری حکومت نے واقعی ان کی قربانی کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے جمہوریت کیلئے جان دی، آپ لوگوں نے تو اپنی لیڈر کے مزار تک میں کرپشن اور دھاندلی کی انتہا کرڈالی، اور اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ ایک مرے ہوئے انسان کے نام پر پانچ سال تک آپ کرپشن اور دھاندلی کرتے رہے، وہ جماعت جو ملکی سطح کی جماعت تھی اب صرف اندرون سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔

پتھر کا جواب اینٹ سے دیتے ہوئے سینیٹر مشاہد اللہ نے جارحانہ رویہ اپنایا اور تمام حساب برابر کر ڈالے، مشاہد اللہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی بنائے ہم نے کرپشن کہاں کی ہے بجٹ ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتا، آ پ کی سمجھ میں نہیں آیا کوئی بات نہیں، سچ بولوں گا کہ مجھے بھی سمجھ نہیں آیا، بجٹ ہر کسی کو سمجھ بھی نہیں آسکتا، آپ کو اپنی حکومت کا بجٹ یاد نہیں جس میں عوام کو ایک کوڑی کا ریلیف نہ دیا گیا، جس میں اربوں کی کرپشن کیلئے عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کی گئی۔ سماء

کو

assad

Tabool ads will show in this div