سینیٹ میں اعتزاز احسن نے دھواں دھار خطاب سے ماحول گرما دیا

اسٹاف رپورٹ:


اسلام آباد : سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزازاحسن نے وفاقی بجٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، اجلاس سے خطاب میں اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ غریبوں کی جیبوں سے پیسہ نکال کر امیروں کی جیبوں میں ڈال دیا گیا۔ ایوان صدر کے اخراجات میں اضافے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔

سینیٹ کے اجلاس میں بحث تو بجٹ پر ہونی تھی لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان گولا باری شروع ہوگئی، سینیٹر اعتراز احسن نے خطاب کرتے ہوئے بجٹ پر تقرر کی اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ بجٹ تقریر سے اسحاق خان کی تقریرکی خوشبو آرہی ہے، بجٹ تقریر میں کوئی نئی چیز نہیں صرف الفاظ کا ہیرپھیر ہے، بجٹ غریب کی جیب سے پیسہ نکال کر امیر کی جیب میں پیسہ ڈالا جا رہا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ پی ایم ایل ن نے جنرل ضیا کی کوکھ سے نکلنے کے بعد اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں دکھائی، ایک شخصیت ہیں ممنون حسین صاحب جو ممنون ہیں اور آگے بھی ممنون ہی رہیں گے، بجٹ میں ممنون حسین صاحت کے اخراجات بھی بڑھا دئیے گئے، حالانکہ ان کی ضرورت صرف قلم اور سیاہی کی دوات ہے جو ان پر دو سال کے لیے کافی ہے، کیونکہ وہ دست خط کرنے کے علاوہ کچھ کرتے ہی نہیں ہیں لیکن ان کے اخراجات بڑھا دئیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کے وزیراعلی کہتے تھے کہ وہ توانائی بحران 6ماہ میں ختم کر دیں گے ورنہ میرانام بدل دینا، آج وہ 2018 میں بحران حل کرنے کی بات کرتے ہیں پہلے اپنا نام تو بدل لیں، وزیر خزانہ 13000روپے میں ایک غریب کا بجٹ تو بنا کر دیکھائیں، حکومت دھرنے پر اپنی ناکامیاں ڈال رہی ہے اپنی ساری ناکامیاں دھرنے پر مت ڈالیں، موجودہ بجٹ کاشتکاروں سے دشمنی کا بجٹ ہے۔

توپوں کا رخ وزیر خزانہ کی طرف کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ اسحاق ڈار تب زیادہ مسکراتے ہیں جب وہ آئی ایم ایف سے قرضوں کا پروانہ لے کر آتے ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے کوئی فاتح، بہادر، شہسوار جنگ جیت کر آرہا ہو، اسحاق ڈار اس قوم کو مزید مقروض کریں گے، اگلی نسلوں کی کمائی بھی اب کھا رہے ہیں، ہم اپنے پوتوں کے پوتوں کی کمائی بھی آج کھا چکے ہیں، میڑو بس منصوبے میں 80ہزار لوگوں کی جانب سے 5،5لاکھ روپے ڈال دئیے گئے ہیں۔

اعتزازاحسن نے مزید کہا کہ سالانہ دو ارب روپے کی سبسڈی بھی دی جا رہی ہے، جو ٹکٹ 100 کا ہونا چاہیے تھا وہ 20 روپے کا ہے، میٹرو بس خوبصورت ہے لیکن آپ کی ترجیحات بدصورت ہیں، وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیراعلی، وزیر خارجہ ، وزیر دفاع اور وزیر خزانہ سمیت دو اور وزرا کو بھی ملالیں تو بھی میں نے ٹیکس زیادہ دیا ہے۔ سماء

میں

سے

نے

دیا

bail

dacoit

Tabool ads will show in this div