میاں صاحب مجھے کچھ کہنا ہے

Nawaz-Sharif-main-640x384

اس وقت جس قدر اُمتِ مسلمہ تنزلی کا شکار ہے شاید دنیا کی کوئی دوسری قوم ہو۔ ایسا کیوں ہے اس کی کیا وجوہات ہیں اِس پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ اِس تنزلی کی بڑی وجہ عوام کے حقوق کو غصب کرنے والا وہ نظام ہے جو برسوں سے مسلم ممالک میں نافذ و عمل رہا ہے۔ چاہے وہ سِول آمریت کی صورت میں ہو یا فوجی آمریت کی شکل میں۔ افسوسناک اَمر یہ ہے کہ جس مذہب میں سب سے زیادہ حقوق العباد کا درس دیا گیا ہے اس مذہب کے ماننے والے آج سب سے زیادہ حقوق العباد کو بھولے بیٹھے ہیں۔ صرف اقتدار کے نشے کی لَت نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے اور نشہ بھی ایسا سر پر سوار ہے کہ اپنے ہی دین سے روگردانی کرکے اپنی ہی قوم پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑتے چلے آرہے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ کریں تو مسلمان قوم صدیوں سے اسی طرح ظلم کی شکار اور غلامی کی زندگی جیتی آرہی ہے کبھی غیروں کی زنجیروں میں مقید ملی ہے تو کبھی اپنوں کے زیرِ تسلط ظلم سہتی رہی ہے۔

لیکن اب اس قوم میں ایک بے چینی پائی جانے لگی ہے کیونکہ اب دورِ جدید ہے اور نسلیں بدل چکی ہیں اب نہ کوئی غلامی کرنے کو تیار ہے نہ ظلم سہنے کو۔ لوگ اب حقوق کے لیے لڑنا سیکھ گئے ہیں انہیں اب پتا چل چکا ہے کہ مملکتوں کے کیا کام ہوتے ہیں، جمہوریت کسے کہتے ہیں۔ برسوں سے چمٹے ہوئے اقتدار کے بھوکے حکمرانوں کو اپنی سیاسی موت صاف نظر آنے لگی ہے۔ چور کتنا ہی طاقتور ہو لیکن چوہے سے بھی ڈرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں چور ہوتا ہے۔ حکمران بھی عوام کی انقلابی آوازوں سے سہمے پڑے ہیں پاکستان میں موجودہ جمہوری نظام مکمل طور پر برے طریقے سے ناکام ہوچکا ہے اس ناکام نظام سے چمٹے۔ ان سیاستدانوں نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کیا ہے جس کو لے کر ہر سطح پر آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ ہر ایک موجودہ نظام سے خائف نظر آتا ہے۔

Beautiful-Karachi-Green-Line-Metro-Bus-Project-Under-Construction-2017-4

اتنا کچھ ہونے کہ باوجود ہمارے سیاستدان خود کو بدلنے کو تیار نہیں۔ انا پرستی کے زعم میں مبتلا کسی طور سدھرنے کو تیار نہیں۔ ملک میں انتشار پھیلتا ہے تو پھیلے عوامی طاقت کو کچلنا پڑتا ہے تو پڑے لیکن ہم برسوں سے جاری بادشاہتی نظام کا خاتمہ نہیں کریں گے۔ یہ سب اِسی طرح یونہی چلتا رہا تو عوام ایک دن بغاوت پر اتر آئیں گے، ریاست کے باغی ہوجائیں گے۔ لہذا حکمرانوں کو اپنا طریق بدلنا ہوگا موقع کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا ابھی بھی وقت ہے حوش سے کام لیا جاسکتا ہے۔ میاں صاحب آپ عوامی خدمت کا جو دعوی کرتے آئے ہیں اسے پورا کیا جاسکتا ہے۔ آپ حقیقی عوامی لیڈر بن سکتے ہیں۔ اس ملک پر اور اس ملک کی عوام پر صرف ایک احسان کردیں پورے پاکستان میں مشرف طرز کا شہری حکومتوں کا نظام لے آئیں۔ جو بلدیاتی نظام آپ اور آپ کے رفقہ لیکر آئے ہیں وہ بااختیار نظام نہیں ہے۔

شہری حکومتوں کا قیام ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے تمام انقلاب اور انقلابیوں کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے۔ صحیح معنوں میں حقیقی جمہوریت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ اگر عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونا شروع ہوجائیں گے تو عوام کی بے چینی میں کافی حد تک کمی واقع ہوجائے گی۔ میاں صاحب پلیز عوام کو شریکِ اقتدار بنائیں۔ عوام کو گلو بٹوں اور نہال ہاشمی جیسے لوگوں سے نہیں نعمت اللہ جیسے لوگوں سے متعارف کروائیں۔ آج مشرف لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں تو اس کی بڑی وجہ یہی شہری حکومتوں کا نظام ہے جو انھوں نے عوام کو دیا تھا۔ عوام آپ سے اور آپ جیسے لیڈران سے اس لیے خائف ہیں کہ آپ نے ان سے مشرف کا دیا ہوا نظام چھین لیا۔عوام اقتدار میں شراکت چاہتے ہیں جو انکا جمہوری حق ہے آپ نے ان سے انکا یہ حق چھین لیا ہے اس سے پہلے وہ آپ سے اقتدار چھین لیں آپ ان کو انکے غصب کئے گئے حقوق انہیں لٹا دیں۔

 

PERVEZ MUSHARRAF

democratic system

local body system

Naimatullah Khan

Tabool ads will show in this div