برطانوی انتخابات، ٹوئٹر پر بھی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

collage

لندن : دنيا کي پراني اور مضبوط جمہوريت ميں آئندہ وزيراعظم کے انتخاب کيلئے پولنگ ہوئي، جہاں کنزويٹو اور ليبر پارٹي کے ساتھ ساتھ  لبرل ڈيموکريٹس اور اسکاٹش نيشنل پارٹي میں بھی کانٹے کا مقابلہ ہے۔ برطانوی انتخابات سے متعلق سوشل میڈیا کی سائٹس پر بھی لوگوں کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے گئے، بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی برطانیہ کے انتخابات میں اسی دلچسپی نے اسے ٹوئٹر کا ٹاپ ٹرینڈ بنا دیا۔

ایگزٹ پول کے مطابق کنزرویٹو پارٹی سب سے زیادہ 318 سیٹیں جیت سکتی ہے لیکن شاید حکومت بنانے کے لیے اکثریت حاصل نہ کر سکے۔ ایگزٹ پول کے مطابق لیبر پارٹی 262 سیٹیں جیت سکتی ہے، اکثریت حاصل کرنے کے لیے دارالعوام کی کم از کم 326 سیٹیں جیتنا ضروری ہیں، انتخابات میں دارالعوام کے 650 ارکان منتخب کیے جائیں گے، رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً چار کروڑ 69 لاکھ ہے۔

تاہم ایگزٹ پول کے سامنے آنے کے بعد نا صرف تجزیہ کاروں اور ماہرین میں بحث کی جنگ چھڑ گئی، بلکہ سوشل میڈیا بھی اس بحث کا میدان بن گیا۔ ایگزٹ پول کی اس پیشن گوئی کے بعد کہ کنزویٹو پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی، ہیش ٹیگ ’ہنگ پارلیمنٹ‘ یعنی معلق پارلیمان سب سے زیادہ ٹرینڈ ہونے والا ہیش ٹیگ بن گیا ہے۔

 

ایک پاکستانی صحافی نسیم زہرا نے پولنگ میں ٹرن آؤٹ پر تبصرہ کیا، اور بڑی تعداد میں نوجوانوں، ورکنگ کلاس کی ووٹنگ میں شرکت کو حوصلہ افزا قرار دیا۔

   

ایک لیبر امیدوار نے اس صورت حال کا خلاصہ ایک تصویر میں کچھ جذبات کو پیش کرکے  کچھ یوں کیا۔

ایک منچلے نے تو کنزرویٹو سے نفرت میں اس کی وجوہات تک بتا ڈالیں۔ Top reasons to vote Conservative in #UKElection2017 #GE2017 pic.twitter.com/0C50QZUlkR

اپنی ٹوئٹ میں کچھ لوگوں نے ونسٹن چرچل کو یاد کرکے مسلمانوں کو انتہا پسند بھی کہا

  U.K. needs to elect leaders like Winston Churchill. It's become a safe haven for radical Islam. #UKElection2017 pic.twitter.com/szVOgD68uZ  

ایگزیٹ پول پر ایک مبصر نے کچھ ایسے پوسٹ کیا۔

ہنگ پارلیمنٹ کی بازگشت بھی ٹوئٹس میں سنائی دی گئی

       

British PM Theresa May

Jeremy Corbyn

UK elections

exit polls

Labour Democratic

UK elections 2017

Tories

Tabool ads will show in this div