صادق اور امین کون، عمران خان یا نواز شریف؟

Jun 06, 2017

IK SOT 03-06

پانامہ لیک کیس کا فیصلہ آنے کے بعد ایک طرف تو وزیراعظم اور ان کے دونوں صاحبزادوں کیخلاف جے آئی ٹی تحقیقات کررہی ہے، دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نواز کے حنیف عباسی کی سپریم کورٹ میں دائر کردہ درخواست پر عمران خان سے بنی گالا کی خرید سے متعلق تحقیقات ہورہی ہیں۔ سپریم کورٹ میں ان دونوں دائر کردہ درخواستوں میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور عمران خان کو آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 کے مطابق صادق اور امین نہ ہونے کی وجہ سے نااہل کرنے کی استداعات کی گئی ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو اس وقت سپریم کورٹ، پاکستان کی 3 بڑی جماعتوں میں سے 2 جماعتوں کے سربراہان سے تحقیقات کررہی ہے اور اگر ان دونوں کیسز میں وزیراعظم اور عمران خان کسی ایک کیخلاف بھی فیصلہ آتا ہے تو 2018ء میں ہونیوالے انتخابات پر اِن فیصلوں کا بہت گہرا اثر ہوگا۔ یہ ٹھیک ہے کہ جمائما خان کی گمشدہ رسیدوں سے متعلق ٹویٹ کے بعد تحریک انصاف کے رہنما پُرامید ہیں کہ اب وہ یہ رسیدیں عدالت میں پیش کرکے نواز لیگ کو منہ توڑ جواب دیں گے، لیکن ہمیں انہی جمائما خان کی طرف سے 2011ء میں کی گئی وہ ٹویٹ بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان نے ان سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔

panama

دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف کے دونوں صاحبزادے جے آئی ٹی کے طلب کئے جانے پر پیش ہورہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق حسن اور حسین نواز اپنی ان پیشیوں میں سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے 13 سوالات سے متعلق ثبوت بھی پیش کررہے ہیں، اس کے علاوہ قطری شہزادہ بھی سپریم کورٹ میں گواہی دینے کو تیار ہے، جس کی وجہ سے نواز لیگ کے رہنماء بھی تحریک انصاف کے رہنماؤں کی طرح سپریم کورٹ سے وزیراعظم اور ان کے خاندان کے حق میں فیصلے کیلئے پُرامید ہیں۔

اگر کچھ دیر کیلئے سوچ لیا جائے کہ سپریم کورٹ میں عمران خان اور وزیراعظم کے خاندان کیخلاف جو کیسز چل رہے ہیں، ان کا فیصلہ دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک کے بھی خلاف آگیا تو اُس جماعت کی اگلے انتخابات میں چانسز مخدوش ہوجائیں گے، لیکن اگر ان دونوں جماعتوں میں سے ایک جماعت کے حق میں فیصلہ آگیا تو اس جماعت کا مقابلہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا جو کہ 2013ء میں ہونیوالے انتخابات میں صوبہ سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔

PPP Jalsa Zardari Speech Garhi Khuda Baksh1

یہ حقیقت ہے کہ جمائما خان کی ٹویٹ کے بعد عمران خان بنی گالا کی خرید سے متعلق حنیف عباسی کے الزامات سے بری ہوجائیں گے لیکن اگر جمائما خان یہ رسیدیں فراہم کرنے میں ناکام رہیں یا جمائما خان کی طرف سے فراہم کردہ رسیدیں سپریم کورٹ کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں اور عمران خان کی طرف سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اثاثوں کی تفصیلات غلط ثابت ہوگئیں تو سپریم کورٹ غلط بیانی کرنے اور اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں غلط جمع کروانے کے جرم میں عمران خان نااہل ہوسکتے ہیں، جس سے متعلق عمران خان ایک ٹی وی انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ انہیں نااہل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ گاڈ فادر (وزیراعظم) اور ان کا خاندان بھی نااہل ہو۔

عمران خان کیلئے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اثاثوں کی تفصیلات میں اپنی آف شور کمپنی نیازی انٹر پرائزز ظاہر نہیں کی، جسے ظاہر نہ کرنے کی غلطی کا اعتراف عمران خان کے وکیل نعیم بخاری سپریم کورٹ میں بھی کرچکے ہیں۔ دوسری طرف اگر ایک منٹ کیلئے سوچا جائے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے بنائی گئی جے آئی ٹی بھی سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کی طرح پانامہ لیکس میں لگنے والے الزامات ثابت نہ کرسکی تو اگلے انتخابات میں نواز لیگ کا تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی سے ویسا ہی مقابلہ ہوگا، جیسا پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کا مقابلہ، جس میں میچ شروع ہونے تک بھارت کو برتری حاصل ہوتی ہے۔

IMRAN KHAN

Panama

Tabool ads will show in this div