ماں

Jun 05, 2017
Young woman with grandmother.
Young woman with grandmother.

تحریر: سعدیہ حمید چوہدری

Young woman with grandmother.

ماٶں کےلیے کوئی ایک دن مخصوص نہیں ہوتا۔وہ تو زندگی کے ہر لمحے میں ساتھ ہوتی ہیں۔چاہے حیات ہوں یا موت کی آغوش میں جا سوئی ہوں ۔آپ محبت کی پہلی ڈگری اپنی ماں کی درسگاہ سے لیتے ہیں۔وہ آپکو جینے کی رمزیں سیکھاتی ہے۔زندگی کے افق پہ اپنے پروں تلے لے کر اڑنا سیکھاتی ھے۔ماں محبت کا مجسم وجود ہے۔ کسی جھگڑے یا کشمکش میں یا کسی بھی عام سے تقابل میں آپ دنیا کے آگے خاموش کھڑے ہو سکتے ہیں ۔قوت گویائی چھن سکتی یے  حتی کہ آپ ادب کےسارے  قرینے اپنانے پہ مجبور یوتے ہیں۔مگر ماں کے سامنے آپ لڑ جھگڑ کے اپنی بات منواتے ییں۔ضد کرتے ییں آپ بڑھاپے کی حدود میں داخل بھی ہو جائیں مگر ماں کے لیے آپ بچے ہی رہتے ییں اصل میں آپ بوڑھے ہی تب ہوتے ہیں جب ماں نہیں رہتی۔آپ کے اندر کا بچہ مر جاتا ہے ،جب آپکو کوئی بیٹا کہہ کے نہیں پکارتا۔ میں نےاپنی عمر کے کتنے سال اس ایک برس میں جی لیے جب اماں چلی گئیں، آنکھیں موند کے دیکھوں تو جدائی کا وہ لمحہ کبھی رخصت ہی نہیں ہوا۔وقت کی سلیٹ پہ ہمیشہ کے لیے ٹھہر گیا۔

اماں کو جدا ہوئے ایک برس بیت گیا نجانے کتنے اور برس بیتیں گے۔میرا اور ان کا ساتھ ایک ماں کا تو تھا۔وہ دوست بھی بہت اچھی تھیں۔ہر دکھتی رگ سے واقف اور ہرزخم پہ مرھم رکھنے میں انہیں ملکہ حاصل تھا۔بہت اچھی قلم دوست تھیں اپنا قلم اور کچھ ادھوری کہانیاں ورثے میں میرے لیے چھوڑ گیئں۔میرے پاس ان کا بےتحاشا پیار ہے۔جس کا ہالہ ان کے جانے کے بعد بھی میرے گرد رہتا ھے۔

motherhood

بہت بلند اخلاق کی مالک تھیں اور اعلی درجے کی مہمان نواز۔جو بنا ہوتا مہمان کے آگے پیش ہو جاتا۔چٹنی رائتے کے ساتھ اتنی محبت سے کہ کھانے کی لذت حد درجہ بڑھ جاتی۔ان کے ہاتھ میں بہت ذائقہ تھا ،دال بھی بناتیں تو پورا گھر اشتہا انگیز خوشبو سے مہک جاتا۔ان کا دل اتنا وسیع تھا کبھی کسی کے خلاف بات نہیں کرتی تھیں نہ کسی کے خلاف ان کے دل میں بغض تھا،صاف دل اور محبت کرنے والی ماں تھیں۔اکثر ان کے ساتھ فجر کی نماز ادا کرتے ہوئے میں نے صبح کی نوخیزی کا عجب عالم دیکھا تھا۔ان کے ہلتے لبوں سے خاموش دعائیں مانگی تھیں۔ مجھے ہر کام ان کی خاطر کرنے کی عادت تھی۔ان کی پہلی بات ہی آخری ہوتی تھی میرے لیے۔ان کی خاطر اتنی محنت کہ فیصل آباد بورڈ میں پہلی پوزیشن لی اورپھر مڑ کے نہیں دیکھا۔

میں ان کے گلے سے نکلنے والا سر اور ان کے قلم سے نکلی ہوئی کہانی تھی۔جس کو مکمل کرتے ہوئے وہ خود ادھوری ہو گئیں۔میری زندگی کے نئے اور اجنبی موڑ پہ وہ بچھڑ گیئں۔یہ جانے بغیر کہ مجھے تو بچھڑنے کے ڈھنگ بھی نہیں آتے۔وہ کچھ دن کے لیے کہیں جاتی تھیں تو میں ان کے کپڑے پہن لیتی۔ان کی باس کے ساتھ سوتے جاگتے جدائی کے دن بتاتی تھی۔دن زیادہ ہو جاتے تو اللہ سے فریادیں شروع ہو جاتیں۔اللہ مجھے میری امی سے ملنا ہے اور دروازے پہ ہونے والی دستک بتاتی کہ دعا قبول ہوگئی۔اب جب کہ وہ ہمیشہ کے لیے چلی گیئں تو کونسی دعا مانگوں۔سمجھ ہی نہیں آتا،ان کی محبت کی انتہا ہے کہ جانے کے بعد بھی خواب میں ایسے ملتی ہیں جیسے میرے آس پاس ہی ہوں۔ان کے جانے کے بعد کتاب پڑھنے کا ہنر بھول سا گیا ھے۔ان کی کتاب دوستی اور اخبار سے محبت بہت عیاں تھی۔اپنی ذات میں ایک انجمن تھیں۔زبردست فائڑ میں نے انہیں مایوس نہیں دیکھا۔نامساعد حالات میں بھی مسکراتے دیکھا۔باہمت اور باحوصلہ مگر ان کا حوصلہ ناجانے کب ختم ہو گیا۔جو خاموشی سے آنکھیں موند لیں۔اماں آنکھیں کھولیں نا۔۔اتنی صداٶں کے بعد بھی ایک بار نہیں دیکھا۔تہہ خاک میں خاموشی سے جا سوئیں وہ۔یہ ایسی حقیقت  ہے جسے ماننے کا دل نہیں کرتا۔

mother reads story book to her daughter

ماٶں کے عالمی دن پہ سب اپنی ماٶں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں،مجھے بھی یہ دن منانے کی بہت عادت تھی۔اب پھول لے بھی لوں تو پھولوں کی محبت میں دیوانگی کی حد تک مبتلا ماں کی قبر پہ ڈالوں گی۔ جنہیں سوکھے پھول پسند نہیں تھے۔رات کی رانی اور موتیے جیسی ماں اب کہاں ملے گی۔مائیں قبروں میں کیوں جا سوتی ہیں۔جو کبھی سوئی ہوں تو گھر میں سناٹے پھیل جاتے ہیں؟ ہمیشہ کی ننید سو جائیں تو گھر ویرانے ہو جاتے ہیں اور جن کے گھر ماں نہ ہو وہاں دل بھی نہیں لگتے۔

محبت کا یہ دریا سوکھ بھی جائے تو نمی کم نہیں ہوتی۔اس سوکھے دریا کے بانجھ پن میں بھی آپ کے لیے زرخیزی ہوتی ہے، دعا ہوتی ہے۔اس دعا کو سمیٹنے کے لیےدامن پھیلا کے دیکھیں۔ماں چلی بھی جائے تو بے خبر نہیں ہوتی۔ کیوں کہ وہ ماں ہی نہیں جو بےخبر ہو۔

جب بھی کشتی میری سیلاب میں آجاتی ہے ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آجاتی ہے

Tabool ads will show in this div