پاکستان اور دیگر ممالک میں رمضان

ramadan-iftar

جیسے ہی رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہونے لگتا ہے پوری دنیا میں جہاں جہاں مسلمان رہتے ہیں رمضان کیلئے ایک خاص قسم کی تیاری شروع کرلیتے ہیں کیونکہ رمضان کا مہینہ مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہر گھر میں افطاری و سحری کیلئے خاص اہتمام کیا جاتا ہے چاہے وہ امراء کا طبقہ ہو یا متوسط ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے اچھے سے اچھا انتظام کیا جائے۔ رمضان میں افطاری اور سحری کی وجہ سے اشیاء کی خرید و فروخت میں اضافہ ہو جا تا ہے۔

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بہت سے غیر مسلم ممالک میں بھی مسلمانوں کو کھانے پینے کی اشیاء پر ایک خاص رعایت دی جاتی ہے، برطانیہ میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل ایک مہینہ اشیا خورد و نوش کی قیمتوں میں واضح کمی کر دی گئی ہے، لندن کے بڑے بڑے سپر اسٹورز میں رمضان کی اسپیشل آفر دی جارہی ہے۔ پچاس فیصد، ساٹھ فیصد اور ستر فیصد فروٹ ، سبزی اور دیگر کھانے پینے کی چیزوں پر یہ رعایت دی جارہی ہے۔ وہاں کے لو گوں کا کہنا ہے یہ مسلمانوں کیلئے ایک خوش کن بات ہے جبکہ ان اسٹورز کے ملکان غیر مسلم ہیں، اس کے علاوہ بھی بہت سے ممالک میں رمضان میں رعایت دی جاتی ہے۔ امریکہ میں دس فیصد اور بھارت میں پچیس فیصد ڈسکاونٹ دیا جاتا ہے لیکن افسوس ہمارے ملک پاکستان میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی کا طوفان شروع ہوجاتا ہے۔ ماہ مقدس کا تقاضا تو یہ ہے کہ تاجر حضرات بلا امتیاز اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں دوسرے مہینوں کے مقابلے میں کمی کریں۔ مارکیٹوں کے ریٹ کم ہوں اور مہنگائی کے بجائے ارزانی اور کم قیمت پر ضروری اشیاء کی فراوانی ہو۔ لیکن بدقسمتی سے رمضان مقدس کو ہماری تاجر برادری سیزن قرار دیتی ہے اور من مانی قیمتوں پر کھانے پینے اور دوسری ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، جبکہ ایک عام آدمی کے لئے محدود آمدنی میں زندگی کی ضرورتیں پوری کرنا پل صراط کو پار کرنے والی بات ہو جاتی ہے۔

HYD Fruits Rates Pkg 02-06 Ayaz

ہمارے ملک میں رمضان پیکج کا اعلان ہوتا ہے جو صرف یوٹیلٹی اسٹورز پر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتنے فیصد عوام حکومت کے قائم کردہ یوٹیلٹی اسٹورز پر خریداری کرتے ہیں؟؟ جبکہ صارفین کی 90 فیصد سے زیادہ تعداد عام بازاروں سے خریداری کرتی ہے۔ پاکستان میں اشیاء پر ڈسکاونٹ دینے کے بجائے مزید اضافہ کر دیاجاتا ہے، خاص طور پر افطاری اور سحری میں استعمال ہونے والی چیزوں میں جیسے چنا، کھجور، تیل، بیسن، آلو، لہسن ادرک اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرکے شہریوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں 50 سے 100 فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے، مقامِ شرم یہ ہے کہ ہماری حکومت کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ عوام اس بابرکت مہینے میں بھی مشکلات کا سامنا کرتی ہے یہ لوگ تو بس افطار پارٹی کے نام پر لاکھوں روپے خرچ کردیتے ہیں۔

Fruits-Vegetables

یہ ہر سال کا رونا ہے رمضان میں مہنگائی کا ۔ ۔ کیا اس کا کوئی حل ہے ؟ تو میری نظر میں اس کا ایک آسان حل ہے اگر ہم خود چاہیں تو اس مسئلے کو ختم کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اور آپ ان چیزوں کا بائیکاٹ کر دیں۔ تین چار دن فروٹ چاٹ، چھولے، پکوڑے، دہی بڑے نہ کھائیں تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ صرف چند دن نہ کھائیں یہ چیزیں تو ان تین چار دن میں اشیاء کی قیمت میں خود کمی ہوجائے گی لیکن افسوس رمضان میں ایسا لگتا ہے جیسے رمضان صرف کھانے پینے کیلئے ہے افطاری اور سحری میں مختلف قسم کے کھانے ہونے چاہیے ایسا کیوں ہے؟ ہمارے پیارے آقا ﷺ صرف دو کھجور اور پانی سے روزہ کھولتے تھے۔ رمضان کا مہینہ اللہ کو راضی کرنے کا ،عبادات کرنے، غریب لوگوں کی مدد کرنے، خیرات اور زکوة دینے کا مہینہ ہے۔ یہ صرف کھانے پینے شاپینگ کرنے افطار پارٹی کرنے کا مہینہ نہیں ہے۔ ذراہ سوچیے اور غور کر یں اگر مہنگائی پر قابو کرنا ہے تو تاجر حضرات اور حکومت دونوں کو تھوڑی انسانیت سے محبت دیکھانی پڑے گی اور ان غیر مسلم ممالک سے سبق سیکھنا ہوگا جو رمضان کے موقع پر اتنی زیادہ رعایت دے رہی ہیں، پاکستان تو پھر ایک اسلامی ملک ہے۔

RAMZAN

MUSLIMS

food items

Iftar o Sehar

prices high

Tabool ads will show in this div