عید کے چاند کی طرح زکوة کی تقسیم بھی مسئلہ بن گئی

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ

لاہور: حکومت پنجاب اور وفاق کے درمیان زکوٰة کی تقسيم کے نئے فارمولے اختلافات پیدا ہوگئے۔ پنجاب نے نئے فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے سابق طے شدہ فارمولے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا

ساتويں اين ايف سی ايوارڈ کی تقسيم پر اتفاق پيدا کرنے ميں پنجاب نے اہم کردار ادا کرتے ہوئے اپنا چارفيصد حصہ بلوچستان اور دوسرے صوبوں کو ديا تھا۔

اب وفاقی وزارت مذہبی امورنے زکوة کی تقسيم ميں بھی پنجاب سے ايک اور قربانی لينے کا فارمولا بنايا ہے۔

زکوة فنڈ ميں سے پنجاب کا چارفيصد حصہ دوسرے صوبوں ميں تقسيم کياجائے گا، ليکن اس مرتبہ پنجاب حکومت نے قربان ہونے سے انکارکرتے ہوئے نئے فارمولے کوغيرمنصفانہ اورصوبے کی غريب عوام کا حق مارنے کے مترادف قرار ديتے ہوئے مسترد کرديا۔

سينٹرل زکوٰة کونسل کو کل حاصل ہونے والی زکواة کا سرسٹھ فيصد پنجاب سے ملتاہے۔ پہلے سے طے شدہ فارمولے کے تحت کل زکواة کا پچپن فيصد پنجاب، 23 فيصد سندھ۔، 13 فيصد خيبرپختونخواہ، 4 فيصد بلوچستان اور 2.41 فيصد فاٹا کودياجاتاہے۔

نئے فارمولے کے تحت پنجاب کا حصہ کم کرکے اکاون فيصد، سندھ اور خيبر پختونخواہ کا ايک ايک فيصد حصہ بڑھ کر 24 اور14 فيصد جبکہ بلوچستان کا حصہ بڑھ کر9 فيصد ہوگا۔

اس سال سينٹرل زکوة کونسل نے کل 7ارب 80 کروڑ روپے کی زکوة اکٹھی کی ہے۔ پنجاب حکومت نے وفاق کو جواب ديتےہوئے کہا کہ اگرپہلے  سے طے شدہ فارمولے کے تحت صوبے کو حق نہ ديا گيا تو پنجاب حکومت خود ہی زکوة کی تقسيم شروع کردے گی۔

پنجاب کے انکارکے بعد وفاق نے اس ايشو کو 25 اگست کو اسلام آباد ميں ہونيوالی مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس ميں بحث کیلئے ايجنڈے ميں شامل کر ليا۔سماء

کی

کے

interference

surrenders

swedish

Tabool ads will show in this div