کالمز / بلاگ

شجرسایہ دار

May 30, 2017

HARMFUL TREES KHI PKG MEHROZ 13-03

تحریر: طاہر نصرت

شجرِ سایہ دار جس کے دامن میں ممتا کی شفقت ہے، محبت کے پھول ہیں ، امن و سکون اور راحت ہے۔ گرم رُت میں جب سورج سوا نیزے پر آتا ہے تو بدن کے پار اترنے والی جھلساتی دھوپ کےباعث چلنا پھرنا محال ہوجاتا ہے۔ زندگی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ وقت کے پاؤں میں بھاری پن آجاتا ہے تو ایسے میں راہ چلتے لوگ ہوں یا کہیں کھڑے کھڑے گپ شپ کرنے والا ٹولہ،سب اسی کے سائے عاطفت میں پناہ لئے ہوتےہیں۔

شجرسایہ دار کی یہ مہربانی بھی ملاحظہ ہو کہ جب جلالی سورج انسانوں و حیوانوں پر ستم ڈھانا شروع کردیتا ہے۔ ہر ذی روح تڑپنے لگتا ہے۔ جاندار مرجھا جاتے ہیں تو بے جان اشیاء سلگتے انگارے بن جاتے ہیں۔ چاروں طرف چمکتی دھوپ وقت کے سنگھاسن پر براجمان طاقت کے نشے میں دھت سب کو ہانکنے لگتی ہے تو اس مشکل گھڑی میں ان مہربان درختوں کے سائے سمٹتے نہیں بلکہ پھیل جاتےہیں۔ اپنی پناہ میں آنے والوں کوایسے آغوش میں لیتے ہیں جیسے بچھڑے برسوں بعد ملے ہوں۔ مگر احسان فراموش قبیلے سے تعلق رکھنے والے بدلے میں کیا دیتے ہیں۔ ان اشجار کے سینے پر کلہاڑیوں کے وار کچھ اس نفرت سے کرتے ہیں کہ جیسے یہ ہمارے دشمن نمبر ون ہوں۔ ضرورت کی بات اپنی جگہ مگر عوام کو یہ شعور ہی نہیں کہ درخت لگانے کے کتنے فائدے ہیں اور اکھاڑنے یا کاٹنے سے کتنے نقصانات؟  موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے درختوں کا کیا کردار ہے؟ ان چیلنجزکا بھرپور جواب کیا ہوسکتا ہے؟ اسلام میں شجرکاری کو صدقہ جاریہ کہا گیا ہے لیکن اس آفاقی دین کے پیروکار کہلانے والے پاکستان میں جنگلات کے خاتمے کیلئے تن من اور دھن سے لگے ہوئے ہیں۔

TREES VANISHED IN 2016 KHI PKG 01-01 MEHROZ

پاکستان میں خشکی کے مجموعی رقبے کا چار اعشاریہ آٹھ فیصد جنگلات پر محیط ہے۔ہماری غیرسنجیدگی اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ 1990 میں ملک کے 3.3 فیصد حصے پر جنگلات تھے جو 2010 میں تشویشناک حد تک کم ہوکر 2.5 فیصد رہ گئے۔

پاکستان ایشیاء کا ایسا ملک ہے جہاں ہر سال سب سے زیادہ جنگلات کاٹے جاتےہیں۔ مگر مجال ہے جو ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک رینگے۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ لگ بھگ تیس برس کے دوران اوسطاً2.1 فیصد جنگلات صاف کرلئے گئے۔ مگر نہ حکومت توجہ دیتی ہے اور نہ ہی اس معاملے میں عوام ایک قدم آگے بڑھنے کیلئے تیار ہے۔

سرکار مختلف اسکیموں کا اعلان کرتی ہے لیکن وقتی طور پر واہ واہ سمیٹ کر معاملہ پھر سردخانے کی نذر ہوجاتا ہے۔ ایسی ہی ایک مہم گرین پاکستان کے نام سے شروع کی گئی تھی جس کی تشہیر بڑے زور و شور سے ہورہی تھی۔ لیکن منصوبہ سپر فلاپ رہا۔ کیوں ؟ کیونکہ ایسے منصوبوں کیلئے سنجیدگی درکار ہوتی ہے ۔ وقت درکار ہوتا ہے۔ عوام کا شعور بیدار کرنا ہوتا ہے۔ حکومت کا زیادہ تر وقت پانامہ لیکس میں خود کو صاف و شفاف ثابت کرنے جبکہ اپوزیشن کا وقت حکومت کو چاروں شانے چت کرنے میں گزراتوپھرایسےمنصوبوں کیلئے ملکی بڑوں کے پاس ٹائم کہاں؟

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو سہنے والے خطرناک ممالک میں پاکستان کا نمبر ساتواں ہے۔ مگر ہم اس ہولناکی سے بچنے کیلئے کیا اقدامات کرر ہےہیں ؟ یقیناً اس کا جواب بھی تسلی بخش نہیں ہے۔ سوائے خیبرپختونخوا حکومت کے اور کونسا ایسا صوبہ ہے جس نے اس معاملے کو سنجیدہ لیا ہو اور مستقبل قریب میں تباہی سے بچنے کیلئے اقدامات شروع کررکھے ہوں؟

3000-year-old-tree-found-in-china-1469971770

بلین ٹری سونامی مہم پر مخالفین تنقید کریں سو کریں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ منصوبہ کامیاب رہا۔ جس کے دور رس اثرات مرتب ہونگے۔ کیونکہ جنگلا ت پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ جو قومی معیشت کے استحکام اور ماحولیاتی آلودگی کے سد باب کیلئے بہت اہم ہیں۔ صنعتی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آگے کی طرف دوڑ کو جاری رکھنا موجودہ دور کی مجبوری ہے تو سونا اگلتی سوہنی دھرتی کی زرخیزی پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔جنگلات مٹ رہے ہیں۔ زمین کا سینہ بنجر ہورہا ہے۔ سڑکیں بنانا بڑی ترجیح ہے۔ ترقیاتی کام ہی ترقی کی علامت ٹھہرا ہے۔ چمن میں پھول کھلے نہ کھلے ،کارخانوں کی چمنیوں سے نکلتا دھواں رکنا نہیں چاہئے۔۔ پرندوں کے گھونسلے رہیں نہ رہیں جنگلات کا صفایا کرکے کمرشل پلازے بننے چاہئیں۔کیونکہ جدید سرمایہ داری نظام کا یہی تقاضا ہے۔ اس نظام میں صنعتیں پھلتی پھولتی ہیں مگر فطرت اپنی رعنائیاں کھو بیٹھتی ہے۔

مارگلہ ہِلز درختوں کی کٹائی سے متعلق اہم کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ فاضل عدالت نے وفاق ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے اس سلسلے میں رپورٹیں بھی طلب کررکھی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت بھی ایک قدم آگے بڑھے اور پارلیمنٹ میں باقاعدہ قانون سازی کرے

کل رات جو ایندھن کیلئے کٹ کے گرا ہے

چڑیوں کو بڑا پیار تھااس بوڑھے شجر سے

deforestation