معاشرے کے وجود پر ثبت 23 زخم

May 30, 2017

l_142223_115947_updates

*** فرخ عباس***

گزشتہ ہفتے حسب معمول آفس پہنچتے ہی ٹویٹر پر آن لائن آیا تو ایک نا خوشگوار اور دل دہلا دینے والی ٹویٹ اور اس پہ دیے جانے والے جوابات ٹائم لائن پر گردش کرتے ہوے دیکھے، ٹویٹ ایک طالبہ کے بارے میں تھی جس کو سال گزشتہ اسی کے کلاس فیلو نے صرف اس وجہ سےخنجر کے 23 وار کر کے شدید زخمی کر دیا تھا کہ اس نے اپنے کلاس فیلو کو '' نا '' بولنے کی جسارت کی تھی۔

DAHhstiUQAQ-veq

DAHkBleU0AEQDG2

وکلا کے گھرانے سے تعلق رکھنے والا یہ انسان نما درندہ نا صرف ضمانت پر رہا آزاد گھوم رہا ہے بلکہ آج سے چند روز قبل اسی کمرہ امتحان میں بیٹھا تھا جہاں اس کی درندگی کا شکار طالبہ خدیجہ بھی بیٹھی تھی،بات سوشل میڈیا سے ہوتے ہوئے مین سٹریم میڈیا پر آئی تو خدیجہ کو ایک ٹالک شو میں بیٹھے بات کرتے دیکھ کے اسکی آنکھوں میں موجود خوف کی پرچھائیوں سے میں بھی خود کو محفوظ نا رکھ سکا اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ کیا یہ لڑکی زندگی بھر کبھی اس سانحہ کو بھلانے کے قابل ہو پائے گی ؟ یہ ایسا سوال ہے جو شاید ہم میں سے ہر ایک کو اپنے آپ سے روزانہ کی بنیاد پر پوچھنا چاہیے ، کیوں کہ اس سے جڑے انگنت سوالات ایسے ہیں جن کا جواب جاننا بھی بہت ضروری ہے۔

KS7

ہمارے معاشرے میں یوں تو کسی کو بھی '' نا '' سننے کی عادت نہیں، لیکن جہاں یہ لفظ کسی خاتون کی جانب سے بولا جائے وہاں انا اور ضد یکلخت کتنے ہی مراحل سے گزرتے ہوے ایسے مقام پر جا پہنچتے ہیں جہاں انسان اور حیوان میں فرق رتی برابر بھی نہیں رہتا۔ ہم اپنے ارد گرد روز ہی کتنے ایسے واقعات دیکھتے ہیں لیکن سر جھٹک کے آگے بڑھ جانے میں ہی عافیت جانتے ہیں ، کبھی کوئی خدیجہ محض نا بولنے پر خنجر کے تئیس وار سہتی ہے ، موت سے لڑ کے اسے شکست دے دیتی ہے لیکن یہ معاشرہ اپنے ہی قاتل کے ساتھ ایک کمرے میں بٹھا کے نا جانے ایک دن میں اسے کتنی بار قتل کرتا ہے ، کبھی کوئی بہو جہیز '' نا '' لانے یا مطلوبہ مقدار سے کم لانے پر چولہے کے نذر ہو جاتی ہے۔

DAITWZwWsAIDeV1

ہمارا معاشرہ عمومی طور پر پر تشدد رجحانات کی دلدل میں گرتا چلا جا رہا ہے ، اور خواتین کے حوالے سے تو یہ رجحان کسی اور ہی نہج پر جا پہنچا ہے، گھر ہو یا دفتر خواتین کو مختلف قسم کے حالات اور مسائل سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ کہیں مذہبی تو کہیں سماجی روایات کے نام پر عورت کو اس کے '' نا '' کہنے کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے اور اگر کوئی خاتون یہ گستاخی کر بیٹھے تو نا صرف اس کی کردار کشی شروع کر دی جاتی ہے بلکہ بعض اوقات تو غیرت اور روایت کے نام پر اس کو زندگی کے حق سے ہی محروم کر دیا جاتا ہے

904femail-student-sucide-1000x600

میں اس تحریر کے آخر میں خدیجہ اور اس جیسی ان ہزاروں خواتین سے معافی مانگتا ہوں کہ مردوں کے اس معاشرے میں ان سے روا رکھی جانی والی زیادتیوں پر ہمارا خاموش رہنا بھی اس ظلم میں شامل ہونے جیسا ہے ، میں خواتین سے یہ درخواست بھی کروں گا کہ وہ خواتین پر ہونے والی زیادتیوں پر خاموش رہنے یا کسی طرح سے اس کی توجہیح پیش کرنے سے باز رہتے ہوے ان زیادتیوں پر آواز اٹھایں کیوں کہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا اس وحشت و بربریت کا اگلا نشانہ کون ہو، اور مردوں سے یہ درخواست کروں گا کہ اگر آپ خواتین پر ظلم و زیادتی کے خلاف باہر نہیں نکل سکتے تو کم سے کم ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور اپنے گھر میں موجود خواتین کو وہ عزت دیں جس کی وہ حقدار ہیں - شکریہ

Tabool ads will show in this div