غذا یا زہر؟؟؟؟

street-photography-vegetable-shot-in-pakistan

صحت ہے تو سب کچھ ہے اور اچھی صحت کے لیے اچھی غذا کا ہونا بہت ضروری ہے۔ غذا انسانی جسم کا اہم جزو ہے۔ تھکان اور بھوک کی صورت میں جسم کو طاقت کی ضرورت ہوتی ہے جس کو صحت مند غذا ہی پوری کر سکتی ہے لیکن جو اشیاء اور غذائیں ہم استعمال کر رہے ہیں وہ وقتی بھوک اور تھکن کو تو دور کر سکتی ہیں لیکن مکمل قوت اور توانائی جسم کو نہیں دیتی جس کی وجہ سے ہم کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بازار میں خالص دودھ کے نام پر ہم پانی ملا ہوا وائٹ کیمیکل استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملاوٹ شدہ مصالحہ جات جس میں بھاری مقدار میں دھاتیں شامل ہوتی ہیں، پاکستان میں کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ تو عام سی بات ہے۔ پہلے صرف دودھ میں پانی ملاتے تھے لیکن اب تو سنگھاڑے کے پاوڈر، سرف، الائچی اور کوکنگ آئل سے بنایا جا رہا ہے جو صحت کے لیے بہت زیادہ نقصان دے ہے۔

ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ صر ف چند چیزیں ہی ایسی ہیں جن میں ملاوٹ ہو تی ہے لیکن جب مختلف چینلز کے رپوٹرز نے تحقیق کی تو بہت ساری ایسی چیزیں سامنے آئیں جسے ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ جی ہاں سبزیاں اور پھل جو روز ہم کھانے میں استعمال کرتے ہیں جن سبزیوں اور پھلوں کو کھاکر ہماری صحت بنتی ہے اب وہ سبزیاں اور پھل ہمارے لیے خطرناک بن چکے ہیں۔

Milk-Price-Pkg-01-031-680x432

جب اس کی تحقیقات کی تو پتا چلا سبزیوں کو تازہ دیکھانے کیلئے انہیں رنگ کیا جاتا ہے۔ مٹر اور کھیرے اتنے ہرے ہرے کیوں نظر آتے ہیں۔ باسی اور پیلے مٹر اور کھیرے پر کلر کیا جاتا ہے جو کپڑے اور کاغذ کو کلر کرنے میں استعما ل کیے جاتے ہیں گرمی میں تربوز بہت زیادہ کھائے جاتے ہیں، تربوز کو لال کرنے اور میٹھا کرنے کیلئے انجکشن لگایا جارہا ہے اس میں جو رنگ ملایا جاتا ہے، اسے "ایری تھروسن بی" کہتے ہے۔ اسے انجیکشن کے ذریعے تربوز میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ کیمیکل اور رنگ اتنے خطرناک ہوتے کہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس سے کینسر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور جو انسانی جسم کو مختلف بیماریوں مثلا ً دل کے امراض، ذےابیطس، جگر کے امراض جیسی بڑی بیماریوں میں مبتلا کر رہی ہیں۔

مرغی کے گوشت کے نام پر مرغیوں کو مرغی کا ہی گوشت کھلا کر اور ہارمونز کے ٹیکے لگا لگا کر تیار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ مرغی جو فطری طور پر ایک کلو کی ہونی چا ہیے وہ تین کلو کی ہو کر مارکیٹ میں بکتی ہے۔ اسی لیے مرغیوں میں بھی مختلف بیماریاں ہورہی ہے جس کی وجہ سے ان مرغیوں کو کھانے والے بھی مختلف بیماری میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

china-poultry

لمحہ فکر یہ کہ اب کھائیں تو کیا کھائیں؟؟ ان ضمیر فروشوں نے چند پیسوں کے خاطر انسانی زندگی اور انکی صحت کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ہے حکومت کو چاہئے کے اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ کرکے لوگوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور ملک بھر میں محکمہ فوڈ کا قیام عمل میں لائیں لیکن افسوس ہماری حکومت ملک کے موجودہ حالات سے غالبا واقف ہی نہیں یا شاید حکومت کو ایک عام آدمی کے مسائل سے دلچسپی ہی نہیں، اور نہ ہی ایوانوں میں اس بات کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ عام آدمی کے مسائل کے حل سے متعلق قانون سازی کی جائے۔

ہماری حکومت کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ مختلف اشیاء کو ٹیسٹ کرنے والی مشینیں زنگ آلود ہو کر برباد ہوچکی ہیں، اوپر سے نیچے تک کرپشن ہے اور یہ افسران زندگیوں میں زہر گھولنے میں برابر کے حصہ دار ہیں، کسی کو خوف نہیں کہ وہ خود اور ان کے بچے کیا کھا رہے ہیں۔ لیبارٹری کو سب نے تباہ کر دیا ہے۔ محکمہ کرپشن اور لاپرواہی کے سبب تباہ ہوچکا ہے۔ سب اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ لیبارٹری کے اسٹور میں نئی مشینری اور کیمیکلز موجود ہونے کے باوجود استعمال نہیں ہورہے اور اسٹور میں رکھے رکھے اسے استعمال کرنے کی مدت بھی ختم ہوگئی۔ گزشتہ کئی سالوں سے حکومت کا کوئی وزیر یا افسر ایسا نہیں آیا جو ان مسائل پر توجہ دے، جبکہ ا ن مسائل پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے ان جعلی اشیاء اور ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کاروائی شروع کریں۔ ہر انسان کی زندگی بہت قیمتی ہے۔ خدارا چند پیسوں کے خاطر لوگوں کی صحت اور زندگی سے نہ کھیلیں۔

food items

public health

Tabool ads will show in this div