عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کو کھول دیا گیا

maxresdefault

مردان : مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی کو کھول دیا گیا ہے، تاہم اس کا گارڈن کیمپس تاحال بند ہے، گزشتہ ماہ 13 اپریل کو صحافت کے طالب علم مشال خان کو توہین رسالت کے غلط الزام میں اسی کیمپس میں مشتعل ہجوم نے قتل کیا تھا۔

یونی ورسٹی انتظامیہ نے مردان کی عبدالوالی خان یونی ورسٹی کو مرحلہ وار کھول دیا، جب کہ گارڈن کیمپس تاحال بند ہے۔ انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے میں یونیورسٹی کے چترال، تیمر گرہ، بونیر اور پبی کیمپسز کھولے جائیں گے، اس دوران دفعہ 144 کے تحت طلباء کے اجتماعات، سیاسی سرگرمیاں اور دیگر پروگرامز پر پاپندی عائد ہوگی۔

imageedit_0_8781948126-1000x499 یونی ورسٹی کے سنڈیکٹ اجلاس میں یونی ورسٹی کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا دیگر دو کیمپسز شنکر اور گارڈن کو 24 اور پچیس مئی سے کھولا جائے گا۔ Mashal-Khan-1 کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے کیمپسز کے اندر اور باہر پولیس چوکیاں بھی قائم کی جائیں گئی ہیں۔ واضح رہے کہ رواں سال تیرہ اپریل کو مشتعل اور وحشت زدہ ہجوم نے توہین رسالت کا غلط الزام لگا کر ہونہار طالب علم مشال خان کو نہ صرف سرعام بے دردی سے قتل کیا، بلکہ اس کی لاش کی بھی بے حرمتی کی گئی، واقعہ میں ملوث 37 ملزمان کو بعد ازاں اعلیٰ عدالت کے نوٹس کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیجز سے گرفتار کیا گیا۔ سماء

accused of blasphemy

Abdul Wali Khan university

Mashal Khan

university reopens

Tabool ads will show in this div