کراچی بدامنی سماعت،چیف جسٹس کا خفیہ اداروں کی رپورٹ عدم اطمینان

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ

کراچی: کراچی بدامنی کے انتہائی اہم معاملے  پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے اور پانچ رکنی بینچ کیس کی کراچی رجسٹری میں سماعت کر رہا ہے۔

  اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے اسپيشل برانچ، ايف آئی اے اور آئی بی کی رپورٹیں عدالت میں پيش کیں لیکن عدالت نے ان پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔

آئی جی سندھ نے بتایا ہےکہ اس ماہ 17 بوری بند لاشيں ملیں، 8 افراد کو تشدد کرکے قتل کيا گيا۔ 20 ٹارگٹ کلرز گرفتار ہوئےاورايک شخص بوری سے زندہ ملا۔

سماعت کرنے والا بنچ چیف جسٹس افتخار چوہدری، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیر مسلم ہانی اور جسٹس غلام ربانی  پر مشتمل ہے۔

چيف جسٹس نے عدالت میں پیش کی گئی حساس اداروں کی رپورٹ کے بارے میں کہا کہ اس ميں کوئی نئی بات نہيں۔ ايسی رپورٹ پيش کی جائے جس سے نتیجے پر پہنچنے میں مدد مل سکے۔

آئی جی سندھ واجد درانی نے عدالت کو بتایا کہ خفيہ ایجنسیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کررہی ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کراچی میں کتنے لوگ حراست ميں لئے گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ شہر میں قتل و غارت گری کے ذمے داروں کا تعين کيوں نہيں کيا جارہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار افراد سے معلوم کيا جائے کہ واقعات کا ذمے دار کون ہے۔ اس دوران آئی جی سندھ واجد درانی نے بدامنی سے متعلق بریفنگ دی۔

انھوں نے بتایا کہ شہر کے سو سے زیادہ علاقوں میں ایک سے زیادہ لسانی گروپ رہتے ہیں اور وہاں فسادات ہوتے رہتے ہیں۔

شہر کی آبادی ایک کروڑ 80 لاکھ ہے جبکہ بتیس ہزار پولیس اہلکار اور ایک سو بارہ تھانے ہیں۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پولیس کا بھی آزادانہ داخلہ ممکن نہیں۔

چیف جسٹس آئی جی پولیس کی بات پر استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ پولیس سربراہ کی حیثیت سے یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ بعض علاقوں میں داخلہ ممکن نہیں ۔

آئی جی نے بتایا کہ فسادات کی وجہ لسانی، فرقہ وارانہ اور زمینوں پر قبضہ ہے۔ سماء

کی

کا

burger

investigators

رپورٹ

reaction

Tabool ads will show in this div