دنیا پاک فوج سے کیوں ڈرتی ہے؟

  pak army1

اڑتالیس میں کشمیر کی محاذ آرائی وہ بھی ایک نو آموز فوج کے لیے ، پھر مسلسل ہلکی پھلکی جھڑپیں، 65کی بڑی جنگ، 71 کی شورش اور پھر مغربی پاکستان کی علیحدگی، افغان جنگ میں کردار، کارگل کا سخت محاذ، اور نائین الیون کے بعد سے مسلسل اندرونی محاذ پہ مصروف عمل ہونے تک پاک فوج میں کسی بھی جگہ عصبیت، لسانیت، فرقہ واریت کے شکنجے میں نہیں آئی حالانکہ کئی دفعہ ایسا تاثر دینے کی کوشش بھی کی گئی کہ پاک فوج میں شدت پسندی حاوی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ مگر پاک فوج کی اندرونی نگرانی کے نظام نے ایسی کسی بھی کوشش کو نہ کبھی نہ صرف پنپنے نہیں دیا بلکہ ملکی سطح پر بھی پاک فوج کا حصہ بننے والے عوام کے ذہنوں سے بھی تقسیم مکمل طور پر کھرچنے میں اپنا کردار جاری رکھا۔ اور یہ وجہ ہے کہ اس وقت پاک فوج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ اور پوری دنیا کسی نہ کسی حوالے سے پاک فوج کی تنظیم کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتی ہے۔

pakistan army operation (1)

مکالمہ پہ ژاں پال ساتر کی تحریر سے جس طرح پاک فوج کی مسلکی بنیادوں پہ تفریق کی نفی کی گئی ہے وہی اس تحریر کی وجہ بھی بنی ۔ ایران کے آرمی چیف کے حالیہ بیانات کے بعد سے ایک نیا محاذ کھڑا ہو گیا ہے کہ شاید پاکستان کی مسلح افواج میں بھی فقہی تقسیم دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ ایک طالبعلم کی حیثیت سے اس بات کو دیوانے کی بڑھک سے زیادہ قرار دینا ایسے ہی حماقت تصور کیا جا سکتا ہے جیسے شتر مرغ ریت میں سر دبا لے۔ پاک فوج کا ادارہ پاکستان میں واحد مثال ہے جس کی تنظیم ، نظم اور صلاحیتوں کی مثال دی جاتی ہے۔ جب ایک ریکروٹ اس ادارے کا حصہ بننے کے لیے آتا ہے تو تربیت کے ابتدائی مراحل میں ہی اس کے ذہن سے ہر طرح کی تقسیم کا مادہ، چاہے وہ زبان کی بنیاد پر ہو یا صوبائیت کی بنیاد پر ، چاہے وہ فقہ کی بنیاد پر ہو یا نسل کی بنیاد پر ایسے کھرچ کا نکال دیا جاتا ہے کہ وہ صرف خاکی وردی میں پاکستان کا سپاہی بن جاتا ہے۔

Pakistan Army - Shawal Valley operations against Terrorists 3

اور اپنے ملک پاکستان کی سرحدوں کے دفاع میں وہ سنی ، شیعہ ، وہابی، دیوبندی وغیرہ کی تفریق سے دور ہو جاتا ہے۔ وہ ملکی دفاع میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہوئے یہ ہرگز نہیں سوچتا کہ وہ مسلمان کا دفاع کر رہا ہے یا ہندو کا ، سکھ کا دفاع مقصود ہے یا پارسی کا وہ صرف پاکستان کی دھرتی اور پاکستانیوں کا دفاع کر رہا ہوتا ہے۔

ایرانی جنرل کا بیان نہ جانے ہم کیوں فرقہ واریت کی پٹی پہن کر دیکھ رہے ہیں۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر پاکستان کا وجود برقرار و قائم ہے تو ہم فرقہ واریت کا چورن بھی بیچ سکتے ہیں بصورت دیگر( جو کہ انشاء اللہ کبھی نہیں آئے گی ) کیسا فرقہ، کیسا گروہ،ہم جس ایران پہ فخر کرتے ہیں وہ ہم سے زیادہ بھارت کو اہمیت دیتا ہے۔ ہم جس سعودی عرب پر فخر کرتے ہیں(مذہبی تقدس ہر لحاظ سے محترم ہے، بحث سیاسی طور پہ ہے) وہاں ہم پاکستانی تارکین وطن کا حال دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح تیسرے درجے کے شہریوں کی طرح زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہیں۔ ہم نہ جانے کیوں نہیں سمجھتے کہ اگر پاکستان اندرونی طور پر مستحکم ہے تو ہی سعودی عرب و ایران کے نزدیک ہماری اہمیت ہو سکتی ہے۔

pak army

شاید ایک مرتبہ پہلے بھی تحریر کے دامن میں لا یا جا چکا کہ ہم پہلے پاکستانی ہیں پاکستان سے اپنی محبت کو عملی جامہ پہنائیں، ایران و سعودی عرب بعد میں آتے ہیں۔ جہاں تک تعلق ہے مقامات مقدسہ کا تو ان کا دفاع ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک دے کر کریں گے۔ مگر خلیج و فارس کے حکمرانوں سے اپنی وفاداریوں کو اتنا طول نہ دیجیے کہ آپ کا اپنا وطن پیچھے رہ جائے۔ اگر ہم کلبھوشن کے معاملے پر ایران سے درشت لہجے میں بازپرس کرتے تو شاید ایرانی جنرل کے آج اس بیان کی نوبت ہی نہیں آتی ۔ اور حد ہے کہ ہم اس بیان کو بھی فرقہ واریت کے ترازو میں تول رہے ہیں ۔یہ سوچنا ہمیں گوارا نہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دو ہمسایہ ممالک ایک ازلی دشمن کے ساتھ مل کر پاکستان پہ وار کر رہے ہیں۔ کیا ہم کسی عالمی سازش کا شکار تو نہیں ہو رہے؟

ہم شاید بھلا چکے ہیں کہ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں اور دبدبہ قائم کرنے کے لیے طاقت دکھانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ لہجہ سب بتا دیتا ہے۔ افغانستان جیسا ملک جس کے لاکھوں شہری ہماری معیشت پہ بوجھ بنے بیٹھے ہیں ہمارے اہلکاروں کو گھر کے اندر مار رہا ہے اور ہم نہ جانے کون سے عالمی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے مہاجرین کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ ایران ، بھارت ، افغانستان کی تکون جس طرح سے پاکستان کو غیر مستحکم کر رہی ہے اس کا قلع قمع سختی کے ساتھ نہایت ضروری ہے جو بھائی ہیں انہیں ایک دفعہ سمجھانا کافی ہے نہ سمجھنے پہ ڈانگ سے سمجھانا لازم ہے۔

573683-kupwara-army-personnel-kashmir-pti

اور جہاں تک تعلق ہے پاک فوج کے متعلق قیاس آرائیوں کا تو کچھ تجزیہ کاروں سے عرض ہے کہ فکر نہ کریں۔ پاک فوج پاکستان کی فوج ہے کسی فرقے کی نہیں۔ کڑا وقت آنے پہ یہ ایران و افغانستان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ اور اس کے جوانوں کی ایڑھیوں سے ریکروٹی کے ابتدائی ایام سے ہی ہر طرح کا تعصب نکال باہر کیا جاتا ہے۔ اور اسی بات سے پوری دنیا ڈرتی ہے کہ یہ فوج ہر طرح کی تقسیم سے پاک ہے۔

pak army

sectarianism

Afganistan

Tabool ads will show in this div