بلوچستان میں جےیوآئی کی قیادت پرچوتھاحملہ

JUI F ATTACKS  Qta Pkg 12-05  

کوئٹہ: مولانا عبدالغفور حیدری سے پہلے بھی بلوچستان میں جے يو آئي کی مرکزی قیادت پر کئی حملے ہوچکے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان دو ہزار چودہ میں خودکش دھماکے میں بال بال بچ گئے تھے۔

گزشتہ پندرہ سال کے دوران دہشتگردی کے شکار بلوچستان میں نہ صرف سیکڑوں عام شہریوں کی جانیں گئیں بلکہ اہم سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

سب سے زیادہ جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی قیادت پر حملے کئے گئے۔اٹھارہ جولائی دو ہزار چار کو قلعہ سیف اللہ میں جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکا کیا گیا تاہم وہ محفوظ رہے۔

مولانا شیرانی پر دوسرا حملہ مارچ دو ہزار نو میں پشین کے علاقے کربلا میں کیا گیا جس میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ اس بار بھی مولانا شیرانی محفوظ رہے۔

تئیس اکتوبر دو ہزار چودہ کو کوئٹہ میں جلسہ سے خطاب کے بعد واپس جاتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی گاڑی پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں تین افراد جاں بحق اور اکیس زخمی ہوئے۔ حملے میں مولانا بال بال بچ گئے۔

مستونگ میں مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ بلوچستان میں جے یو آئی کی قیادت پر چوتھا حملہ ہے۔ سماء

jui f

Tabool ads will show in this div