کیاہم مستحق لوگوں کی مدد کررہےہیں

Charity. Picture by: Salim Matramkot. Pen Photo,Matramkot,2006,29-Sep-06 Al Sharq,Photographers,Matramkot,29-Sep-06

انسان جب اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت کے ثمرات حاصل ہوتے ہیں بشرطیکہ اس کے وجود وروح نے ایمان کی حلاوٹ چکھی ہو۔اس لیے زیادہ سے زیادہ عطیات اور خیرات دیتے ہیں۔ اللہ کی رضا کے لیے دنیامیں سب سے زیادہ خیرات ،صدقا ت پاکستان میں دئے جاتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال انفرادی سطح پر دی جانے والی خیرات  ملک کے 98 فیصد گھرانے دیتے ہیں۔ یہ رقم خیرات، صدقات اور عطیات کی صورت میں دیتے ہیں، اس کی کل مالیت 240 ارب روپے بنتی ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عطیات کی مد میں تقریبا 554بلین روپے سالانہ اکھٹے ہوتے ہیں لیکن عطیات دینے والوں میں سے 62 فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہےکہ ان کے دیے گئے روپے کن مقاصد میں استعمال ہو رہے ہیں۔عطیات وغیرہ دیناہی صرف ہماری ذمہ داری ہے۔ہمیں معلوم ہوناچاہیےجوعطیات ہم دیں رہے ہے وہ مستحق لوگوں کو ہی مل رہے ہے کہیں ان عطیات کااستعمال غلط جگہ تونہیں ہورہا ہےکیونکہ پاکستان میں بے شمارایسےادارےکام کر رہے ہیں وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کواستعمال کرتے ہیں اور دشمن ممالک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث کرتے ہیں ۔ خاص طور پر عطیات اکھٹے کرنے کے لیے مختلف تہواروں پر ہماری نوجوان نسل انجانے میں ملک دشمن تنظیموں کے لیے چندہ اکھٹا کر رہی ہوتی ہے۔ لوگو ں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ پیسہ ان ہی کے خلاف استعمال ہوسکتاہے۔ یہ صرف حکومت کا ہی نہیں بلکہ ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی انفرادی آزادی کو استعمال کرتے اور اپنی سماجی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اگر کوئی ایسی سرگرمی دیکھیں تو متعلقہ ادارے کو اس سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات کریں کہ ہماری نوجوان نسل آگاہ ہو کہ ان ا دارے کی کیا کیا سرگرمیاں منعقد کرواتے ہیں اور کس طرح سے نوجوانوں کو اپنی راہ پر چلاتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ نوجوان دشمن ممالک سے بدلہ لینے کی آگ میں ایسے جھلس جائیں اور اپنے ملک کے لیے بھی کچھ کرنے کے قابل ہی نہ رہیں۔ یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ کچھ تنظیمیں پاکستان کے دشمن ممالک سے نفرت،اشتعال اور تعصب کے لیے نوجوانوں کو استعمال کررہی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یہ دور مقابلے کا دور ہے۔ اس مقابلے کے دور میں نوجوانوں کوآگاہ ہوناچاہئےکہ وہ کسی غلط تنظیم کےلیےعطیات اکھٹےتو نہیں کررہے۔ ان عنوانات پر باقاعدہ تحقیقات موجود ہیں اور یہ ادارے کس کس طریقے سے عطیات اکھٹے کرتے ہیں۔اس حوالے سے بھی باقاعدہ معلومات مل سکتی ہے۔ جس طرح کسی بھی ادارے کے لیے عطیات اکھٹے کرنے کے لیے کایہ ادارے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اسی طرح نوجوانوں کو بھی آگاہی پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہئے اور ملک دشمن اداروں کے بارے میں حکومتی اداروں سے معلامات لے کر آگے بھی پھیلانی چاہئے۔کیونکہ ہم لوگ کسی بھی کو بھی عطیات دے کر بے فکر ہوجاتے ہیں ہم نے توثواب کا کام کر دیالیکن افسوس تحقیق سے اس امرکی آگاہی ہوئی کہ کچھ حکومت کے مخالف اور مشکوک اشخاص خیراتی اداروں کے روپ میں سالانہ اربوں روپے عوام النا س سے ہتھیالیتے ہیں اور پھر ان عطیات کا غلط استعمال بھی کرتے ہیں۔

BEGGARS STROM KHI PKG 06-06

عوام کوچاہئے کہ نہ صرف صدقہ خیرات دینے سے قبل اداروں کی ساکھ اوراس میں موجودافرادکوجانچنے کے بعددے بلکہ اچھے لوگوں اورخدمت خلق کرنیوالے اداروں کی بھی نشاندہی کیاکریں۔عطیات کی مد میں جو اربوں روپے جمع ہوتے ہیں ان میں سے ہماری دی گئی رقم غیرتصدیق شدہ ادارے وصول کرتے ہیں جوپھرمنفی سرگرمیوں میں صرف ہوتے ہیں تاہم عوام کوعطیات صحیح اورمستحق اداروں وافرادتک پہنچانے کیلئے خود بھی بھرپور کرداراداکرناہوگا۔ صدقہ وخیرات دیتے وقت خیراتی اداروں کی تسلی بخش جانچ پڑتال کرنابہت ضروری ہے۔ بغیرسوچھے سمجھے غیرتصدیق شدہ تنظیموں کوعطیات نہ دیئے جائیں ۔ تب ہی یہ ممکن ہے کہ عوام رفاحی اورفلاحی اداروں کوعطیات دینے سے قبل نہ صرف صحیح فیصلہ کریگی بلکہ غیرتصدیق شدہ اداروں کی نشاندہی کرکے حکومت کیساتھ تعاون بھی کریگی۔ زیادہ بہتر ہو گا کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کورقم دے دیں جن کو اہم جانتے ہوں۔ آج کل غربت اتنی زیادہ ہے آپکو ہر محلے میں جگہ جگہ مستحق لو گ نظر آئیں گے۔

charity

beggers

Tabool ads will show in this div