Technology

گوگل پلے اسٹور میں وائرس کا انکشاف

May 10, 2017

androidpit-google-play-store-update-install-4-w782 نیویارک : ماہرین کے مطابق گوگل پلے اسٹور میں وائرس کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد 20لاکھ صارفین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سائبر کرائم اور انٹرنیٹ پر ہیکنگ سے متعلق تحقیقات کرنے والی ایک امریکی ملٹی نیشنل کمپنی نے انکشاف کیا ہے کہ گوگل پلے اسٹور میں وائرس موجود ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے نے بتایاکہ چیک پوائنٹ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی نامی کمپنی کے مطابق گوگل پلے اسٹور میں نومبر 2016 میں وائرس چھوڑا گیا۔ images کمپنی نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ فالس گائیڈ نامی وائرس گوگل پلے اسٹور میں موجود کم سے 40 موبائل ایپلی کیشنز میں موجود ہے، جس سے لاکھوں صارفین اور ڈیوائسز متاثر ہوچکے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا کہ فالس گائیڈ نامی وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 6 لاکھ ڈیوائسز اور 20 لاکھ صارفین متاثر ہوئے ہیں۔چیک پوائنٹ کے مطابق فالس گائیڈ نامی وائرس گیمنگ اور گائیڈ ایپلی کیشنز میں موجود ہے۔ جیسے ہی ایسی ایپلی کیشنز کو ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے تو وائرس ڈاؤن لوڈنگ سے ملتی جلتی تفصیلات طلب کرتا ہے، جس سے صارفین سمجھتے ہیں کہ یہ ایپلی کیشن کی ضروریات ہیں، تاہم درحقیقت وہ وائرس ہی ہوتا ہے۔ دوسری جانب برطانوی میڈیا نے بتایا کہ پلے اسٹور میں وائرس کی موجودگی کے انکشاف کے بعد گوگل نے وائرس کو ہٹادیا ہے۔امریکی ادارے نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ اس وائرس سے کتنے اور کون سے ممالک متاثر ہوئے۔ ادارے کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ یہ وائرس کس نے اور کیوں چھوڑا، تاہم خیال ہے کہ یہ وائرس بڑی ویب سائیٹس کو ہیک کرنے یا ان تک رسائی کے لیے چھوڑا گیا ہوگا۔ google-play-store-android خیال رہے کہ کمپنی نے رواں برس جنوری میں بھی گوگل پلے اسٹور میں وائرس کی نشاندہی کی تھی، کمپنی نے جنوری میں اپنی رپورٹ میں ان موبائل ایپس کی فہرست بھی جاری کی تھی، جن میں وائرس پایا گیا۔ سماء

MOBILE

Andriod

virus

USERS

Google play

Tabool ads will show in this div