کشیدگی کم کرانے کی کوشش،روس میں نواز مودی کے درمیان اہم ملاقات

ویب ایڈیٹر:


اوفا : روس کے ٹھنڈا موسم میں پاک بھارت سرد مُہری ختم کرانے کیلئے پاک بھارت وزرائے اعظم کے درمیان اہم ملاقات آج ہو رہی ہے، دو سال سے تعلقات پر جمی برف پگھلانے کیلئے نواز مودی  آج ملاقات کر رہے ہیں۔


پاکستان اور بھارت کی جانب سے تعلقات میں تناؤ اور کشیدگی کو کم کرانے کیلئے وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روسی کے شہر اوفا میں ملاقات کی، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کانگریس ہال میں ہوئی، اس موقع پر مودی نے آگے بڑھ کر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے مصافحہ کیا اور  گرمجوشی سے ملاقات۔ ملاقات سے قبل وزیراعظم  نواز شریف نے ملاقات میں شامل بھارتی وفد سے ہاتھ ملایا۔ ملاقات میں مشیرخارجہ سرتاج عزیزاورمعاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ  موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق  دونوں رہنماؤں کے  درمیان آج ہونے والی ملاقات کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے، ملاقات سے توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کو ایک بار پھر قریب آنے کا موقع ملے گا۔ ملاقات کی تجویزبھارت کی جانب سےدی گئی تھی جس پر پاکستان نےمثبت جواب دیا، دونوں وزرائےاعظم کی باضابطہ ملاقات گزشتہ سال مئی میں بھی ہوئی تھی،گزشتہ سال کٹھمنڈومیں بھی دونوں وزرائےاعظم کی رسمی ملاقات ہوئی تھی۔ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم اوربرکس اجلاس کی سائیڈلائن پرہورہی ہے۔

اس سے قبل روس کے شہر اوفا میں برکس کانفرنس کے موقع پر نوازشریف اور نریندر مودی کا آمنا سامنا ہوا اور دونوں کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، تاہم باضابطہ ملاقات نہ ہوسکی، ذرائع کے مطابق  نواز شریف اور نریندر مودی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بننے والے معاملات پر بات چیت ہوگی۔ نواز شریف کی جانب سے پاکستان میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردوں کی امداد کا معاملہ اٹھائے جانے کا بھی امکان ہے۔ روسی شہر اوفا پہنچنے کے بعد بھارتی میڈیا سے انتہائی مختصر گفت گو میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ہی کچھ کہہ سکیں گے۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ روس میں وزیراعظم نواز شریف کی بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ قاضی خلیل اللہ نے بتایا کہ پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت دی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا پاکستان ہر قسم کی پراکسی وار کے خلاف ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات اہم پیشرفت ہے' عید کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور ہو گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی حکومت بننے کے بعد پاکستان نے حسب سابق دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن بھارت حالات کو معمول پر لانے کی راہ میں روڑے اٹکاتا رہا ہے۔ سرحد پار سے مذاکرات کا سلسلہ منقطع ہونے اور کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بھی دونوں وزرائے کی ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سماء

PM

RUSSIA

FO

CHINA

FOREIGN OFFICE

Ufa

MEETING

CLASH

DESH

Tabool ads will show in this div