Technology

جرائم کی تفتیش کیلئے ڈیٹا مائننگ کی تکنیک

May 08, 2017
Staff members sit at their work stations at the National Cybersecurity and Communications Integration Center in Arlington, Virginia, January 13, 2015. US President Barack Obama visited the facility to talk about cyber security. AFP PHOTO / SAUL LOEB        (Photo credit should read SAUL LOEB/AFP/Getty Images)
Staff members sit at their work stations at the National Cybersecurity and Communications Integration Center in Arlington, Virginia, January 13, 2015. US President Barack Obama visited the facility to talk about cyber security. AFP PHOTO / SAUL LOEB (Photo credit should read SAUL LOEB/AFP/Getty Images)
Staff members sit at their work stations at the National Cybersecurity and Communications Integration Center in Arlington, Virginia, January 13, 2015. US President Barack Obama visited the facility to talk about cyber security. AFP PHOTO / SAUL LOEB        (Photo credit should read SAUL LOEB/AFP/Getty Images)

نیویارک : معاشرے میں جرائم کی تفتیش کے لیےڈیٹا مائننگ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، مغرب میں اس تکنیک کو جرائم کے سدباب اور کھوج لگانے کیلئے تیزی سے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کسی ملزم کے ساتھیوں سے اس کے جرائم کی تفتیش پولیس کا ایک قدیم حربہ ہے لیکن اس میں پیسہ، وقت اور کوششیں صرف ہوتی ہیں۔ قانونی طور پر یہ بہت پیچیدہ عمل ہے۔ ایسی تحقیقات عموماً ابتدائی شک کی بنیاد پر کی جاتی ہیں لیکن اب ڈیٹا کا حجم بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ جس سے تحقیق کی اب ایک نئی قسم متعارف ہو گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی مشتبہ شخص کے رویے کے پیٹرن اور ساتھیوں سے تحقیقات کی بجائے مشتبہ شخص کے مکمل ڈیٹا سے مطلوبہ معلومات اکٹھی کرلی جائیں۔ 140526091601-big-data-police-lapd-story-top موضوع کی بنیاد پر ڈیٹا کی تلاش کے مقابلے میں پیٹرن کی بنیاد پر ڈیٹا مائننگ ریورس کام کرتی ہے۔ کسی مجرم کے تعلقات کی بجائے ڈیٹا مائنر اس کے پروفائل میں مماثلت اور کوائف کی چھان بین کرتا ہے۔ ڈیٹا ویلنس سے لوگوں اور ان کے ساتھیوں سے متعلق عام طور پر دستیاب ریکارڈ سے گہری معلومات پر مبنی جامع خلاصہ میسر آجاتا ہے۔ cyberpd اس قسم کی چھان بین کے لیے پرائیویسی کا دفاع غیر ضروری ہوتا ہے۔ امریکی آئین کی چوتھی ترمیم صرف دو یا اس سے زیادہ افراد کے درمیان ہونے والی بات چیت کو تحفظ دیتی ہے لیکن تحریر یا آلات سے کی گئی ریکارڈنگ چوتھی ترمیم کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔ اسی لیے بڑے پیمانے پر ڈیٹا جمع کرنے اور اسے فروخت کرنے پر بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ دو افراد کی کسی مواصلاتی کمپنی کے ذریعے کی گئی بات تیسرے فریق کی ملکیت بن جاتی ہے جو اسے اپنی مرضی کے مطابق حاصل کرسکتا ہے، ذخیرہ کرسکتا ہے اور پھیلا سکتا ہے، جب معلومات کو ذخیرہ کرنا، اسے منظم کرنا اور رسائی حاصل کرنا آسان نہ تھا، تو پرائیویسی کے مضمرات بہت کم تھےلیکن جب سے حکومتی تجزیہ کاروں نے ٹیلی کمیونیکیشن کی کمپنیوں کے ڈیٹا کے تجزیہ کی طرف توجہ دی تو قانونی پیچیدگیوں کے بغیر معلومات حاصل کرکے ان کا عملی تجزیہ کرنا آسان ہو گیا۔ Big-Data قانون نافذ کرنے والے ادارے انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ کے نظام میں بڑے عرصے سے دلچسپی ظاہر کررہے ہیں لیکن پیٹرن کی بنیاد پر ڈیٹا مائننگ، ڈیٹا کی بنیاد پر پیش گوئی کرنے والے تجزیے کا استعمال نائن الیون کے بعد کیا گیا۔ امریکہ میں 11/9کمیشن نے الزام لگایا تھا کہ 11ستمبر 2011ء کا سانحہ اداروں کے آپس میں معلومات کی شیئرنگ نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی معلومات ایک دوسرے سے خفیہ رکھتی تھیں۔ خفیہ ایجنسیوں میں اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے بارے میں جس کو جو معلومات تھیں۔ وہ انھوں نے ایک دوسرے سے چھپا کر انتہائی خفیہ رکھیں۔ گزشتہ دس سالوں میں امریکہ میں اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مربوط انٹیلی جنس سسٹم، قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات ، ملکی سکیورٹی ایجنسیوں میں ہم آہنگی ، تعلقات کار اور باہمی تعاون کو فروغ دیا گیا تاکہ دہشتگردی کے خلاف موثر اقدامات کیے جائیں۔ جس کے بعد وفاقی اور ریاستی ایجنسیاں کارکردگی اور افعال میں بہتری لے آئیں۔ قبل از وقت جرائم کے ہونے کا اندازہ لگا کر پولیس کے حرکت میں آنے کو ممکن بنایا۔ انھوں نے نہ صرف وسیع تر معلومات سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ کار ڈھونڈ لیا ہے بلکہ اطلاعات کے نظام کو پھیلا دیا ہے۔ AAEAAQAAAAAAAAcOAAAAJGFmNTdlZjFmLWVmY2ItNDVkYy04MGE2LTVhMmE0NzUyNzEzMQ اپنے ایک مضمون میں ڈینیل سٹرون اور فرینک پاسکل نے اپنی رائے دی ہے کہ فیوژن سنٹر سے فرد کی قانونی اور نجی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیوں کہ فیوژن سنٹرز حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے روائتی احتساب سے بچنے کے لیےریاستی اور وفاقی قوانین کو استعمال کرتے ہیں۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ ایجنسیوں کے باہمی تعاون میں کوئی رکاوٹ یا دیوار نہیں ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ پرائیویسی ایکٹ 1974ء واضح کرتا ہے کہ وفاقی ایجنسیاں کون سی معلومات اپنے پاس رکھ سکتی ہیں لیکن ریاستی ایجنسیاں اس قانون کے دائرہ عمل میں نہیں آتیں۔ لہٰذا وفاقی ایجنسیاں بھی ان سے معلومات حاصل کرسکتی ہیں۔ اسے نیٹ ورک کی کمزوری یا خلا کہا جاسکتا ہے۔ رابرٹ او ہیرو جونیئر اخبار واشنگٹن پوسٹ میں فیوژن سنٹر کے طریقہ کار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ مراکز ٹریفک ٹکٹس، پراپرٹی ریکارڈ، چوری سے متعلق رپورٹس، ڈرائیونگ لائسنس، امیگریشن ریکارڈ، ٹیکس انفارمیشن، پبلک ہیلتھ ڈیٹا، کریمنل جسٹس ذرائع، کار رینٹل ریکارڈ، کریڈٹ کارڈ رپورٹ، پوسٹل اور شپنگ ریکارڈ، یوٹیلٹی بلزرپورٹس، گیمنگ ڈیٹا، انشورنس کلیمز، ڈیٹا بروکرز کے ڈوزیئرز اور اس طرح کے دیگر ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ معلومات کے اس دور میں اب ہر طرح کی انفارمیشن تک رسائی ممکن ہو چکی ہے۔ data-mining-business-intelligence-ecommerce-compressed آئی ایس ای نشاندہی کرتی ہے کہ اہم اور حساس انفراسٹرکچر دہشتگردوں کا اولین ہدف ہوتا ہے۔ امریکہ میں اس وقت پرائیویٹ سیکٹر 85فیصد حساس بنیادی ڈھانچے اور وسائل کو استعمال کررہا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آئی ایس آئی کس قسم کی معلومات فراہم کرتا ہے کیوں کہ فیوژن سنٹر زکا اپنا کوئی مرکزی ڈیٹا سنٹر نہیں ہے بلکہ یہ اداروں کو معلومات تک رسائی اور رہنمائی کرتے ہیں۔ اس طرح آئی ایس آئی ایسا ذریعہ ہے جس سے بغیر کسی رکاوٹ کے معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ سٹرون اور پاسکل کہتے ہیں کہ معلومات شیئرنگ کی راہ میں دیواریں کھڑی کرنے کی لاحاصل کوشش کی بجائے اس پورے نیٹ ورک کا احتساب کرنے سے معلومات شیئرنگ کے نظام کو مکمل طور پر بےضرر کیا جاسکتا ہے۔ اگر نئے دور میں زندہ رہنے کے لیےنجی معلومات کی حفاظت ضروری ہے تو ہمیں نئی ٹیکنالوجی اور نئے قوانین کی ضرورت ہو گی۔ سماء

INTELLIGENCE

Bank

Tabool ads will show in this div