لڑکیوں کی بڑھتی عمریں اور شادی کا مسئلہ

Pakistani-girls-Credit-Stars-Foundation-Kristian-Buus-LARGE

دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے دیگر مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ نوجوان لڑکیوں کا وقت پر مناسب رشتہ نہ ہونے کے سبب اُنکی بڑھتی ہوئی عمریں ہیں. اِس وقت دنیا کی کُل آبادی ساڑھے سات ارب سے تجاوز کر چکی ہے جس میں تین ارب اسی کروڑ سے زائد مرد اور تین ارب بہتر کروڑ سے زائد خواتین شامل ہیں جبکہ صرف پاکستان میں 2016 کے اعدادوشمار کے مطابق بیس کروڑ کی آبادی میں دس کروڑ سیتنس لاکھ مرد اور نو کروڑ بیاسی لاکھ سے زائد خواتین شامل ہیں.

young girls stand together

دیکھا جائے تو اِن اعدادوشمار کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں مرد عورت کے تناسب میں ابھی فلحال اتنا زیادہ فرق نظر نہیں آتا لیکن پھر بھی پاکستان جیسے ملک میں عورت کو رشتہ ازدواج میں بندھنے کےلیے کافی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ تیزی سے ڈھلتی عمریں انکی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث ہیں. ویسے تو جدید و ترقی یافتہ معاشرے میں لڑکیوں کی بڑھتی عمریں اب اِس قدر پریشانی کا باعث نہیں رہیں کیونکہ اِن معاشروں میں مرد و خواتین بالخصوص شادی جیسے بندھن میں بندھنے کےلیے کم عمری یا لااُبالی بچکانہ ذہن کے بجائے ایک خاص عمر کے ساتھ ساتھ ذہنی پختگی پر زور دیا جانے لگا ہے تاکہ شادی کے بعد کی زندگی کو دونوں جانب سے سنجیدگی اور ذمہ دارانہ طریق سے گزارا جاسکے. لیکن پاکستانی معاشرے میں اِس طرح کے رجحان کو عام ہونے میں ابھی فلحال وقت درکار ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں اِس وقت بھی شادی کے حوالے سے لڑکا لڑکی کی عمر کا تعین ایک خاص قسم کی سوچ کے زیرِ اثر ہے جہاں بڑی عمر کی نسبت کم عمر لڑکی کو فوقیت دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کسی گھر میں چار یا پانچ جوان بہنیں موجود ہیں وہاں رشتوں کے معاملے میں انتہائی افسردگی پائی جاتی ہے کیونکہ لڑکے کے گھر والے کم عمری کو فوقیت دیتے ہوئے بڑی سے چھوٹی بیٹی کے رشتے کے طلبگار ہوتے ہیں جبکہ لڑکی کے والدین بڑی بیٹی کو بیانے کی تگودو میں چھوٹی بیٹی کے رشتے کو بھی خیرباد کہہ دیتے ہیں ایسی صورتحال میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چھوٹی بیٹی کی جگہ تیسری بیٹی لے لیتی ہے اور اُس کے بعد چوتھی پانچویں اور یوں آہستہ آہستہ بڑھتی عمریں سب کو اپنی لیپٹ میں لیکر اُنکے لیے رشتوں کے دروازے ہمیشہ کےلیے بند کردیتی ہیں۔

dukhtar

عمریں بڑھتی جاتیں ہیں اور امیدیں ٹوٹتی جاتی ہیں. یہ ہمارے معاشرے کا ایسا دردناک پہلو ہے جو آج  انتہائی سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے. جس کے باعث معاشرے میں ایک جانب بے راہ روی بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب غریب نوجوان لڑکیوں میں مایوسی اور دنیا سے بیزاری پھیلتی دکھائی دیتی ہے جس کے سبب معاشرے میں منفی رجحان عام ہورہا ہے. خود کو زندگی کی رنگینیوں سے دور گھر کی چار دیواری میں قید رکھنا انھیں اچھا لگنے لگا ہے جن میں سے اکثر خواتین مذہب کا سہارہ لیکر دنیاوی زندگی سے مکمل علیحدگی اختیار کرکے خود کو صوم صلواۃ تک محدود کرلیتی ہیں دنیاوی تقاضوں سے دور رہے کر  سب سے الگ تھلگ سادہ زندگی گزارتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ اِن میں سے کچھ خواتین اپنی زندگی کو مصروف بنانے اور اپنے بوڑھے والدین کا سہارہ بننے کا خیال اپنے دل میں لیے ملازمت کرتی نظر آتی ہیں. دونوں ہی صورتوں میں اس طرح کی خواتین اپنے اوپر ظلم کرتی ہیں اور آخر میں خود کو ایک ایسی بند گلی کا مسافر بناڈالتی ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں بن پاتا ملازمت اختیار کرنے والی خواتین کے والدین بیٹی کو کماتا دیکھ کر اسے گھر میں اچھی خاصی انکم کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے والدین کی جانب سے انکی شادی کی رہی سہی فکر بھی معدوم ہونا شروع ہوجاتی ہے. میں اِس حوالے سے پہلے بھی کئی بار اپنی تحریروں میں کہہ چکا ہوں خدرا اپنی بچیوں پر توجہ دیجئیے انکے سروں میں چاندی چمکنے سے پہلے انھیں بیاہ دیجئیے بڑی چھوٹی کے چکر سے باہر آئیے جسکا بھی مناسب رشتہ آئے اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائیں.

5412afff703ea

دوسری جانب وہ خواتین جنکی مناسب رشتوں کی پاداش میں عمریں ڈھلتی جارہی ہیں اُٹھئیے اپنی زندگیوں میں رنگ بھرئیے یہ آپ کی زندگی ہے اِس طرح اپنے آپ کو تباہی کے داہنے پہ لاکر کھڑا مت کیجئیے آپ عاقل و دانا ہیں عمر کی اس حد پر ہیں کہ اپنے فیصلے خود کرسکتی ہیں لہذا اپنی بے رنگ زندگی میں رنگ بھرئیے آج کل ہر گلی محلے میں میرج بیورو موجود ہیں بااعتماد لوگوں سے رابطہ کیجئیے والدین کو اِس جانب راغب کیجئیے یاد رکھیں کوئی بھی کام سچی لگن کے ساتھ کیا جائے تو کامیابی ضرور ملتی ہے. رشتہ ازدواج میں بندھنے کےلیے لڑکا لڑکی اور دونوں کے والدین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا. لہذا اِس سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو رشتہ ازدواج سے منسلک کیجئیے یہ میرے رب کا حکم بھی ہے اور برائی سے بچنے کا راستہ بھی ہے. سماء

PARENTS

women issue

Age issue

Tabool ads will show in this div