احترام کے لائق ہیں یہ لوگ

1 تحریر: اکرم چوہان  دروازے پردستک ہوئی ،میں نے جاکر دیکھا تو ایک مزدور پسینے میں ترکھڑا تھا، بولا صاحب تھوڑا سا پانی پینے کے لئے دے دیں۔  میں نے بُرا سا منہ بنایا، بڑبڑاتا ہوا واپس کمرے میں آںے کے بعد بیگم صاحبہ کو ایک بوتل میں پانی بھرکردینے کاحکم جاری فرمایا ( گلاس اس لیے نہیں کہ اس میں تو میری فیملی  پانی پیتی ہے )۔  بوتل لینے کے بعد اس نے شکایتی نظروں سے میری طرف دیکھا لیکن شکوہ زبان پر لانے سے وہ رُک گیا ، میں نے اس کی کوئی پرواہ کئے بغیر دھڑ سے گیٹ بند کیا ، اور آرام سے ٹی وی دیکھنے میں منہمک ہوگیا۔ یہ ہمارا عمومی رویہ ہے ، ہم اس طرح کے پیشوں سے وابستہ افراد سے اچھوت کی طرح کا جو رویہ رکھتےہیں، آئیےآج اس پرایک نظرڈالتےہیں (ساتھ میں ایک خوش فہمی بھی پالتے ہیں کہ شاید اس طرح صورتحال کچھ بہتر ہوجائے گی)۔

نان بائی کو ہی لے لیجئے، غضب کی گرمی پڑ رہی ہے، چوٹی سے ایڑی تک پسینہ بہہ رہا ہے ، ہر کوئی ہائےہائے کررہا ہےلیکن ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کےاوقات۔ جب خواتین گھر میں روٹیاں پکانے سے انکارکردیتی ہیں تو ایسے میں تنور کی یاد آتی ہے،نہ اس کے گندےہاتھوں سےگِھن آتی ہےنہ اس کےپسینےسے۔ بس اپناالوسیدھا کرناہوتاہے،روٹی لےکربیگم صاحبہ کی خدمت میں حاضرہونا ہے،اس لیے اس کی تیارکردہ پراڈکٹ پرکوئی ناک بھوں نہیں چڑھاتا ،بلکہ مزے لےلےکرہےکھاتا ہے۔

2

کچھ ایسا ہی معاملہ ہاکر ( اخبار والے ) کا ہے، صبح سویرے صاحب بہادر کو تفصیلات کے ساتھ اپ ڈیٹ ہونا ہے جس کے لئےنیوزپیپرکامطالعہ ازحدضروری ہے۔اب چاہے شہر کے حالات ( کراچی بطور خاص) جیسے بھی ہوں،لیکن لیٹ ہونےپرجو اس کی کلاس لی جاتی ہےالامان الحفیظ ۔ اس کےنیوزپیپرایجنٹ سے بھی اس کی شکایت کی جاتی ہے اور ماہانہ ادائیگی کو بھی جان بوجھ کرروکاجاتا ہے۔ مانا کہ ہر جگہ ایسا نہیں ہے ، لیکن اکثریتی کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ بھی سوچنا چاہیئےکہ موسم کی شدتوں کو خاطر میں لائے بغیر وہ کس وقت بستر چھوڑتا ہے، ناشتے اور اپنے آرام سمیت کتنی قربانیاں دیتا ہے ، تب کہیں جاکر اخبار گھر تک پہنچانے میں کامیاب ہوتا ہے۔

دودھ والا بھی اسی صف میں شامل ہے( پانی ملانےکی شکایت بالکل بجا ہے جس پر اسکے کان کھینچےجانے چاہئیں ) لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ وہ کس قدرغیرصحت مندانہ ماحول میں رہ کر کام کرتا ہے۔ اس کی صحت پر اسکے کس قدر مضر اثرات مرتب ہوتے ہونگے۔ نوجوانی میں تو خیر ہے ، لیکن جوں جوں اس کی عمر بڑھتی ہے ، جانے کیسےکیسے امراض اس کے جسم میں جگہ بنالیتے ہیں جو آخری سانس تک اسکا پیچھا نہیں چھوڑتے ۔

3

بچوں کاوین ڈرائیور، اگریہ نہ ہوتوصبح کے وقت ( کیا ماراماری کا عالم ہوتا ہے، کسی کو دفتر ، کسی کو کالج کی پڑی ہوتی ہے ) اس صورتحال میں اگر بچوں کو اسکول چھوڑنےکی ذمہ داری کسی کوسونپ دی جائےتو اس کا کیا ری ایکشن ہوگا؟۔ لیکن یہ مسئلہ بھی مستقل بنیادوں پر وین ڈرائیور ہی حل کرتا ہے ، اگر کسی بھی وجہ سے وہ مہینے میں ایک یا دو دن چھٹی کرلیتا ہےتووالدین اسکا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔  اسکول سے اسکی شکایت لگاتے ہیں ، ٹرانسپورٹرکو بھی فون کھڑکاتے ہیں ، اسکی تنخواہ میں سے کٹوتی کا الگ مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس کے باوجود کہ وہ آپ کو کس قدر آسانی فراہم کرنے کا باعث ہے( اگر گاڑی خراب ہوجائے تو بچے ( چھوٹے نہیں ، نویں اور دسویں کلاس کے بچے بھی گاڑی کو دھکا لگانےسےانکار کردیتےہیں، اگر یہ خدمت لےبھی لی جائے توماں باپ غصے سےلال پیلا ہوجاتے ہیں) اس طرح وین ڈرائیور بھی اسی فہرست میں شامل ہے ۔

4

سنیٹری ورکرز ہوں یا چوکیدار ،دیکھنے میں ان کے کام کی اہمیت کچھ بھی نہیں ، لیکن اگر ایک لمحے کے لئےبھی یہ سوچ لیا جائے کہ سنیٹری ورکرز کا کام کسی عام آدمی کوکرنا پڑجائے تو؟ بس اگر یہ بات ذہن میں رکھی جائےتو بہت سے مسائل ہی نہ ہوں۔  کبھی ہم نے سوچا ہےکہ اگرہماری زندگی سے ان پیشوں سے وابستہ افرادمائنس ہوجائیں تو مشکلات کس قدر بڑھ آجائیں گی۔

اس لئے ان افرادکو حقارت کی نظرسےدیکھنے کی بجائےعزت و احترام دیا جاناچاہیئے، کیوں کہ یہ وہ افراد ہیں جو ہماری زندگی میں بہت سی آسانیوں کا باعث ہیں، اگر یہ نہ ہوں تو جو کام یہ سرانجام دیتے ہیں، ہماری ایک بڑی اکثریت کسی طوربھی ان فرائض کو پورا کرنے کی اہلیت بوجوہ نہیں رکھتی، کہیں کام کا بوجھ ہوتا ہے تو کہیں دیگر رکاوٹیں۔

working class

LABOURS

Tabool ads will show in this div