چلے تھے ساتھ کیسی فلم ہے؟

58c12c18e5747

فلم ’’چلے تھے ساتھ‘‘ کا ٹریلر دیکھ کر فلم دیکھنے کا اشتیاق بڑھا۔ فلم کے آغاز میں گلگت اور ہنزہ وادی کے خوبصورت لوکیشن دیکھ کر طبیعت باغ باغ ہو گئی اور جس طریقے سے کیمرہ مین نے لوکیشز کو شوٹ کیا اسکو داد بھِی دی۔ ڈرون کیم کے اس دور میں یہ ایک پلس پوائنٹ ہے کہ خوبصورت مناظر کی عکاسی بغیر وقت ضائع کیئے انتہائی خوبصورت انداز میں کی جا سکتی ہے- فلم کے شروع میں کرداروں کا تعارف جو کسی بھِی اچھی فلم کا خاصہ ہوتا ہے وہ بھی اچھے انداز میں کروایا گیا۔

بیس منٹ کی فلم گزرنے کے بعد محسوس ہو کہ کرداروں کا تعارف بھی ہو چکا اور ہلکے پھلکے مناظربھی ہو چکے جو کہ کسی بھی فلم کے شروع میں ہوتے ہیں،اب آگے کچھ ہونا چاہیئے یعنی کہانی کو کچھ آگے چلنا چاہیئے۔ مزید پندرہ منٹ گذرنے کے بعد یہ دلچسپی اکتاہٹ میں بدلنا شروع ہوگئی ،پہلے گانے نے موڈ کو کچھ تبدیل کیا مگر ہدایتکارنے کہانی میں کسی قسم کا موڑ جو کہ فلم کے آدھے گھنٹے بعد آنا چاہیئے تھا اس کو ایک گھنٹے تک طول دے دیا جس کی وجہ سے فلم جھول کا شکار ہوتی نظر آئی۔ خاص کر جب فلم کی ہیروئن سائرہ شہروز نے فلم کے آغاز میں ہی اپنی ڈائری لکھتے ہوئے مرکزی کرداروں کا تعارف اور مسائل کا ذکر کر دیا تھا تو اتنی طوالت کی کیا ضرورت تھی اگر مقصد مناظر دکھانا تھآ تو وہ تو فلم کے پہلے بیس منٹ میں دکھآئے جا چکے تھے۔

فلم میں کوئی کہانی جب ہوتی ہے تو اس میں کوئی موڑ بھی آتا ہے، یہ کوئی سفرنامہ تو تھآ نہیں کہ بس چلتے جاؤاور جب فلم کے شروع میں ہدایت کار کامیاب بھی ہو گیا جو کہ کرداروں اور لوکیشنز کی وجہ سے توجہ بھی حاصل کرلی ہو پھر بھی فلم کو قابو نہ کیا جاسکے تو زیادہ افسوس ہوتا ہے۔ ایک گھنٹے کی فلم کے بعد کلائمکس کا وقت تو دور تھا فلم میں ایک انٹری باقی تھِی وہ تھی بہروز سبزواری کی جن کے آنے سے فلم کو وقتی سہارا ضرور ملا کہ ایک گھنٹے کی یکسانیت ختم ہوئی مگر دوسرے ہاف میں اچانک ہدایتکار کو اتنی جلدی ہوگئی کہ جن مناظر کو اچھے طریقے سے شوٹ کیا جانا چاہیئے تھا وہ دیکھنے والے پر بغیر کوئی اثر چھوڑے گزرتے چلے گئے۔

اچا نک ہیرو کی چین روانگی ،اچانک پوری وادی کا پانی سے بھر جانا کہ دیکھنے والے کو نہ تو ہیرو کے جانے سے دکھ ہوتا ہے جو کہ ہونا چاہیئے تھآ نہ ہی پانی کے آنے سے تکلیف ہوتی ہے جو کہ ہونا چاہیئے تھی۔ اچانک سخت باپ کا ہیرو کے حق میں ہو جانا  اس کے برعکس ہیروئین جس کو ہیرو کی محبت کا زیادہ یقین ہوتا ہے اسکا ہیروکے جانے سے ایک دم مایوس ہو جانا کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے-

فلم نام ہے موڈ کے بدلنے کا ہے جو ہنسنے ،رونے ،حیرانگی اور تجسس پرمجبورکرتا ہے ،چلیں فلم کے پہلے ہاف کی طوالت اور یکسانیت کو برداشت کیا جا سکتا تھا اگر آخری آدھے گھنٹے میں ہی کوئی اثر چھوڑتی مگر یہاں بھی ناکامی ہوئی۔  کئی فلموں کی مثالیں ہیں جو پہلے ہاف میں بور تھیں جیسے  سٹوڈنٹ آف دی ائر جو پہلے ہاف میں ہی نہیں اخری ادھے گھنٹے تک جھول کا شکاررہی مگر شاندار کلائمکس نے ساری کسر پوری کر دی مگر یہاں ایسا نہ ہو سکا۔

58a5ada18f36a

سائرہ شہروز نے شاندار اداکاری کی ،اسامہ طاہر بس گزارا ہی تھے، زیادہ تر ہلکے پھلکے کردار ادا کرنے والے بہروز سبزواری نے بھی  حیران کن طور پر اچھی اداکاری کی اور فلم میں جان ڈالنے کی کوشش کی-ہیرو جو چین سے تھآ وہ بھی ٹھیک رہا بس یہاں بھِی ہیرو اور ہیروئن کے ٹھیک ہونے کے باوجود آپس میں کیمسٹری نہ مل سکی جو کہ ہدایتکار کی ذمہ داری تھی۔ ژالے سرحدی نے مختصر کردار اچھا کیا مگر ان سے مزید کام لیا جا سکتا تھا۔ فلم کا میوزک اچھا ہے ،اس فلم میں پہلے ہاف کی طوالت کے سوا اوور تو کچھ نہیں مگر کمی ضرور محسوس ہوئی جس میں ادکاروں کا قصور نہیں-

فلم بنانے والوں سے گذارش ہے کہ یا توآرٹ فلمیں بنائیں اور اگر کمرشل فلم بنانی ہے تو اس کے لوازمات کا خیال رکھیں اور فلم کو ٹی وی ڈرامے کے تاثر سے نکالیں۔ اس فلم کو دس میں سے چار نمبر دیے جاسکتے ہیں یا پانچ میں سے دو سٹار دے سکتے ہیں۔

Film Chalay Thay Saath

film review

Tabool ads will show in this div