کاجول کھائے توٹھیک؛مسلمان کھائیں توقتل ہوجائیں

May 02, 2017

kajol

[video width="292" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/05/Actress-Kajol-enjoying-eating-beef-Kajol-beef-eating-video-leaked-and-go-viral.mp4"][/video]

بالی ووڈ اداکارہ کاجول نے دوست کے ریستورنٹ میں گائے کے گوشت سے بنی ڈش کو بھینس کے گوشت سے بننے والی ڈش قرار دے دیا۔ اداکارہ نے انسٹا گرام سے اپنی ویڈیو بھی ہٹا لی۔ انتہا پسند ہندوؤں کے خوف سے بیان تبدیل کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر کاجول کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

گزشتہ روزسوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں کاجول ممبئی میں قریبی دوست کے ریسٹورنٹ کی افتتاحی تقریب میں شریک تھیں ۔اداکارہ نے اہنے شیف دوست کی خوب تعریف کی اورخوب ذوق و شوق دکھاتے ہوئےاس نئی ڈش سے متعلق پوچھا۔ ویڈیو میں یہ بات واضح ہے کہ ڈش گائے کی گوشت سے بنائی گئی ہے۔ کاجول نے یہ ویڈیو اپنے انسٹا گرام پیج پر بھی اپ لوڈ کی تھی مگراب شاید دباؤ اورانتہا پسند ہندوؤں کے خوف سے ویڈیو ہٹا دی گئی ہے البتہ تقریب کی تصاویر اب بھی موجود ہیں۔

kajol1

اداکارہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹرپراپنی وضاحتی ٹویٹ میں کہا کہ ایک بیان میں کہا کہ دوست کے یہاں لنچ میں ٹیبل پر بھینس کے گوشت سے بنی ڈش موجود تھی  جو قانونی طور پر دستیاب ہوتا ہے۔ ڈش کو غلط فہمی کی بنیاد پرگائے کے گوشت سے بنی ڈش کہہ دیا گیا۔

کاجول نے مزید لکھا کہ میں اس لیے یہ ضاحت کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ یہ حساس معاملہ ہے جس سے مذہبی جذبات مجروح ہو سکتے ہیں جو کہ میرا مقصد نہیں تھا۔

kajol2

بھارت میں مسلمانوں کے لیے تو گائے کے گوشت کا نام لینے پربھی زندگی تنگ کردی جاتی ہے ، گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں کئی مسلمانوں کو قتل بھی کیا جا چکا ہے مگر انتہا پسندوں کے خوف سے ایک ہی رات میں بیان سے مکرنے پر کاجول کو کیا جائے گا؟ یہ دیکھنا ہے۔ فی الحال تو اداکارہ کو سوشل میڈیا پر کڑے محاذ کا سامنا ہے۔

]

Kajol attacked by trolls

Tabool ads will show in this div