ملک بھر کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی بستیاں اجڑ گئیں

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : بارشوں کے بعد درياؤں نے جوش مارنا شروع کردیا، دریائے سندھ اور چناب ميں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، دونوں درياؤں کی اطراف سیلابی ریلا سب کچھ بہا لے گیا، مال مويشيوں سميت نقل مکانی جاری ہے۔

مون سون بارشوں کے بعد دریاؤں میں طغیانی منہ زورم موجیں کئی بستیاں نگل گئیں، مظفر گڑھ میں دریائے سندھ کے کنارے آباد علی پور کے دیہاتوں میں پانی داخل ہوگیا، مال مویشیوں کے ہمراہ نقل مکانی جاری ہے۔

لوگوں کو ریسکیو تو نہیں کیا جارہا لیکن ریلیف کیمپس قائم کردیئے گئے جو سنسان پڑے ہیں، ہیڈ تونسہ کے مقام پر پانی کی سطح 5 لاکھ کیوسک تک جاپہنچی۔

لیہ میں بھی دریائے سندھ کے پانی نے کئی بستیاں ڈبو دیں، بستی سرائی، جکھڑ، بکھری احمد خان، کھوکر والا اور شاہ والا ميں ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔

راجن پور میں کوٹ مٹھن اور روجھان کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیکڑوں دیہات زیر آب آگئے، ریلے میں بہہ کر ایک بچہ بھی جان سے گیا، حاجی پور اور اطراف میں سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی۔

گڈو بیراج پر درمیانے جبکہ سکھر بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، سکھر، پنوعاقل، روہڑی، علی واھن کے متعدد دیہات زیرآب آگئے جبکہ دیہاتی اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقام پر منتقل ہورہے ہیں۔

کندھ کوٹ میں کچے کے متعدد دیہات پانی کی نذر ہوگئے، سیلاب کے خدشے کے باعث دیہاتیوں کی نقل مکانی بھی جاری ہے۔

نارووال ميں سيلابی ريلہ گھروں ميں داخل ہوگیا، 100 ایکڑ پر کھڑی فصليں تباہ ہوگئيں۔

تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اسپل وے کھول دیئے گئے ہیں، پانی کا اخراج ایک لاکھ 80 ہزار 5 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، پانی کی سطح میں ایک ہزار 500 فٹ تک اضافہ ہوگیا، منگلا ڈیم میں پانی سطح 1234 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سماء

KPK

PUNJAB

MoonSoon

Tabool ads will show in this div