یقین دہانیوں کے باوجود شہر سے لاشیں ملنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا: چیف جسٹس

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹر


کراچی :شہر قائد میں بدامنی پر از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جاری ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ  یقین دہانیوں کے باوجود شہر سے لاشیں ملنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے۔


 چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری  کی سربراہی میں  پانچ رکنی بینچ کراچی بدامنی ازخودنوٹس کیس کی سماعت کررہا ہے۔


آج سماعت شروع ہوئی تو متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہاہےکہ شہرمیں معصوم لوگوں کوقتل کیاجارہاہے اورسیکیورٹی ادارے خاموش ہیں۔


 فروغ نسیم نے کہاہےکہ چھ جولائی دوہزارگیارہ کو لینڈ مافیا اوراسحلہ مافیانے درجنوں افراد کو قتل کیا، سات جولائی کو چودہ افراد کو بس سے اتارکر فائرنگ کانشانہ بنایاگیا اورکٹی پہاڑی اورقصبہ کالونی کےقریب درجنوں اردو بولنے والوں کو اغواء کرکے قتل کیاگیا۔


 انہوں نے کہا کہ بائیس جولائی کو ملیر میں حقیقی اورامن کمیٹی کےدہشتگردوں نے شہریوں کو قتل کیا مگرکسی قاتل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔


 اس سے پہلے ایڈووکیٹ جنرل سندھ  نے انسداددہشتگردگی کی عدالتوں میں چھ ججوں کی تعیناتی کا نوٹی فیکشن  عدالت میں پیش کیا۔


انہوں نے عدالت کوبتایاکہ  انیس سو بانوے  آپریشن سے متعلق خفیہ اداروں کی رپورٹ کا ریکارڈموجود نہیں۔ آپریشن میں جوکارروائیاں ہوئی تھی ان کاریکارڈ موجود ہے۔


 عدالت نے سچل،ملیراورجناح اسپتال کے قریب قتل کئے گئے افراد کی تفصیلی رپورٹ  بھی طلب کی  ہے ۔۔۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اتنی یقین دہانیوں کے باوجود شہر سے لاشیں ملنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔اللہ کرے کے شہرکے حالات قابو میں آجائیں۔


سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ  کراچی اسلحہ کا گڑھ بن چکا ہے۔


 سماعت کے دوران آئی ایس آئی کی ٹیم بریفنگ دینے سپریم کورٹ پہنچی۔ ٹیم لیپ ٹاپ ، پروجیکٹر اسکرین اور اہم دستاویزات  بھی ساتھ لائی۔۔


چیف جسٹس نے ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم سے استفار کیا کہ ایم کیوایم کی فہرست میں پٹھان، بلوچی اوردیگرزبان بولنے والوں کا ذکر کیوں نہیں ہے۔


 چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنی صفوں سے دہشتگردوں کو خود کیوں نہیں نکال دیتیں۔


سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں شہر قائد بد امنی از خود نوٹس کیس کی سماعت  کل تک ملتوی کردی گئی ہے۔


سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ مقدمہ منصفانہ بنیادوں پر چلنا چائیے اور جو بھی ملوث پایا جائے اسے سزا ملنا چائیے۔ سماٴ

کے

کا

چیف

سے

ban

law

لاشیں

press

entry

dhaka

Tabool ads will show in this div