عمران خان کا معافی مانگنےسےانکار،الیکشن کمیشن سےبھی مستعفیٰ ہونیکامطالبہ

ویب ایڈیٹر:


اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ معافی مجھے نہیں میاں صاحب کو مانگی چاہیئے، جوڈیشل کمیشن نے اچھا کام کیا، تاہم اس فیصلے کی توقع نہ تھی، سمبلی میں جائیں گے کب جانا ہے فیصلہ بعد میں کریں گے۔ کہتے ہیں تحریک انصاف اب سڑکوں پر نہیں آئی گی، مبینہ دھاندلی کے الزامات دہراتے ہوئے کپتان نے الیکشن کمیشن سے بھی مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کردیا۔

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد جس رد عمل کا سب سے زیادہ انتظار تھا وہ بنی گالہ کے در و دیوار سے بالا آخر باہر آہی نکلا، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد بھی دھاندلی دھاندلی کی تان نہ چھوڑی، ایک طرف جوڈیشل کمیشن کی تعریف بھی تو دوسری طرف کمیشن کے فیصلے پر مایوسی بھی، یعنی کپتان کی سادگی پر کون نہ مر جائے۔

بنی گالہ میں چیئرمین عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کا آغاز تو انتہائی تحمل کے ساتھ کیا تاہم کچھ دیر کے بعد وہ روایتی جذباتی کیفیت میں آگئے اور پارٹی کی توپوں کا رخ حکومت کی جانب موڑ دیا، عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کی تعریف مگر لگے ہاتھوں الیکشن کمیشن پر شدید تنقید بھی کی، انکوائری کمیشن کا فیصلہ سر آنکھوں پر اور قبول مگر وہ ہی مرغی کی ایک ٹانگ کے الیکشن کمیشن کے اراکین استعفے دیں اور معافی میں نہیں میاں صاحب قوم سے مانگیں۔

عمران خان نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا انکوائری کمیشن کے قیام کا مطالبہ جائز تھا، انکوائری کمیشن کی رپورٹ نئے پاکستان کی جدوجہد کا حصہ ہے مایوسی کی ضرورت نہیں، سوائے، سال انیس سو ستر کے کوئی الیکشن نہیں جس کو سب نے شفاف کہا ہو، ووٹ کے تقدس کی بحالی کیلئے جدوجہد کی اور دو سال ضائع نہیں ہوئے بلکہ لوگوں میں سیاسی شعور آیا ہے، دھرنوں کے پیچھے لندن پلان کی باتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے۔

پریس کانفرنس میں خان صاحب اپنے دیرنیہ مطالبے کو نہ بھولے، عمران خان نے کہا چار حلقے کھلوانے کیلئے ہر جگہ گیا ہر جگہ آواز اٹھائی، حلقے کھلوانے کا مقصد اگلا الیکشن ٹھیک کرنا تھا، ٹماٹر کی قیمتوں پر ازخود نوٹس لینے والے افتخار چوہدری نے کہا بیس ہزار مقدمات پڑے ہیں۔

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا میاں صاحب آپ نے پہلے حلقے کیوں نہ کھولے، معافی تو آپ کو مانگنی چاہیے، الیکشن کمیشن میں روابط کا فقدان تھا۔ ڈی جی الیکشن کمیشن کو اضافی بیلٹ پیپرز کے بارے میں علم ہی نہیں تھا، رزلٹ مینجمنٹ سسٹم کیوں فیل ہوا؟ الیکشن کمیشن کو علم نہیں تھا۔

عمران خان نے کہا انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا الیکشن کمیشن کے ممبرز کا انتخابی عمل میں کردار نظر نہیں آیا، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے نیچے کوئی مانٹرینگ نظام نہیں تھا، الیکشن کمیشن کے ممبرز سے مطالبہ کرتے ہوئے عمران خان نے ای سی پی کے اراکین سے کہا کہ وہ رپورٹ کے بعد استعفیٰ دیں، اب کون فیصلہ کرے گا کہ یہ ایک منظم دھاندلی تھی یا پھر لیپس ہوگئے؟۔

کپتان کا کہنا تھا کہ پہلے دن کہا تھا کہ جو فیصلہ آئے گا قبول کرونگا، اسمبلی میں جائیں گے، کب جانا ہے فیصلہ بعد میں کریں گے، انکوائری کمیشن سے توقعات زیادہ تھیں لیکن فیصلے سے تکلیف پہنچیں، انہوں نے کہا چیف جسٹس نے بڑا زبردست کام کیا اور چیف جسٹس کو داد دیتا ہوں ان سے امیدیں بھی زیادہ تھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا فائنڈنگ کے مطابق 35 فیصد فارم 15 تھیلیوں میں نہیں ملے۔ قانون کہتا ہے کہ آر او فارم 15 کا رزلٹ دیں گے۔ سمجھنا چاہتا ہوں کہ کیسے کہہ دیا کہ الیکشن قانون کے مطابق ہوا؟ ۔ سماء

JUDICIAL COMMISSION

JUDICIARY

PTI

IMRAN KHAN

TEHREEK E INSAF

BANI GALA

SHIREEN MAZARI

APOLOGY

SORRY

Tabool ads will show in this div