جنگ،جیوکیس کی سماعت،اسلام آبادمیں آویزاں بینرزپررپورٹ طلب

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدلیہ مخالف بینرز پر اٹارنی جنرل سے کل رپورٹ طلب کرلی، ڈی جی آئی بی کو رپورٹ جمع کروانے کیلئے بدھ تک کی مہلت دے گئی، جسٹس جواد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کی چار دیواری میں ان کا کوئی قریبی عزیز یا رشتہ دار نہیں، عدلیہ مخالف بینرز کے خطرناک نتائج ہوں گے۔

جسٹس جواد خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جیو سے متعلق کیس کی سماعت کی، جسٹس جواد نے ریمارکس دیئے کہ ججوں کے ضابطہ اخلاق کا آرٹیکل چار انہیں اختیار دیتا ہے کہ کس کو اپنا رشتہ دار تسلیم کروں اور کس کو نہیں، میر شکیل کی بہن سے ان کے بھائی کی شادی کو پینتالیس سال ہوگئے ہیں، بھابھی کے بھائی سے بیس سال سے نہیں ملا تو اسے رشتہ دار کیسے مان لوں، عدلیہ کے خلاف بینر اسلام آباد کے مرکز میں لگے ہیں۔

جسٹس جواد نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے بینرز لگوانے والوں کا پتہ چلایا جا سکتا ہے، اگر آپ بے بس ہیں تو بھی بتا دیں۔

عدالت نے تضحیک آمیز بینرز  سے متعلق اٹارنی جنرل سے کل رپورٹ طلب  کر لی، ڈی جی آئی بی کو رپورٹ جمع کروانے کیلئے بدھ تک کی مہلت مل گئی۔ سماء

Tabool ads will show in this div