ماضی کےجھروکوں سےجھنکتاقلعہ

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/04/Sangni-Fort-Isb-Pkg-15-04.mp4"][/video]

Sangni Fort Isb Pkg 15-04

گوجرخان: سکھ سلطنت کےقدیم  قلعوں کی مضبوطی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدیوں کے تھپیڑے سہہ کر بھی اپنی بنیادوں پر جمے کھڑے ہیں۔

رنجیت سنگھ کے پنجاب میں پانچ برجوں والا قلعہ سنگنی تعمیرکاشہکارہے۔اونچے ٹیلے پر قائم بلند فصیلوں کا حصار،دیوار کے ساتھ صدیوں کی عمر والابوڑھا برگد،تین اطراف قدرتی خندقیں اورہریالی کے بیچوں بیچ چلتا پگڈنڈی نما راستہ،قدیم سکھ شاہی دور کی پُرشکوہ یادگارہے۔

ماہ و سال کی دیمک تعمیر کی تازگی تو چاٹ گئی لیکن دم دار ڈھانچےکا کچھ نہ بگاڑ سکی ۔حال کے جال میں تاریخ کے نظارے آج بھی واضح ہیں۔سکھ دور میں اس قلعے کا کردار دفاعی سے زیادہ انتظامی تھا۔

قلعے میں تعمیر مسجد اور مزار کی کہانی بھی سینہ بہ سینہ چلی آ رہی ہے۔مزار کی تعمیر اور نقش و نگار میں چھلکے مہارت اور عقیدت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

اپنی بنیادوں میں دو سالہ تاریخ لیے یہ قلعہ آج بھی اسی شان سے کھڑا ہے جو تاریخی عمارت کا خاصہ ہے۔ سماء

gujjar khan

architect

Tabool ads will show in this div