عدالت کےباہرحاملہ عورت کاقتل،ملزمان کی گرفتاری کیلئےایک دن کی مہلت

Nov 30, -0001

ویب ایڈیٹر:


لاہور : لاہور ہائی کورٹ کے باہر حاملہ عورت کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے 24 گھنٹے کی مہلت دے دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں جاری ہے، اجلاس میں لاہور میں قتل ہونے والی فرزانہ قتل کے کیس سے متعلق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی، جس کے بعد ملزمان کی عدم گرفتاری پر وزیراعلیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دیگر ملزموں کی گرفتاری کیلئے24گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے دی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ملزمان پر مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے گا، جب کہ کیس سے متعلق قائم کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر کیس کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پولیس کی موجودگی میں انسانیت سوز واقعہ افسوس ناک ہے، دوسری جانب خادم اعلیٰ کو کیس سے متعلق پیش کی گئی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقتولہ فرزانہ کے والد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ خاتون سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں، اور جلد انہیں بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔

 

واضح رہے کہ دو روز قبل بدھ کے روز  لاہور ہائی کورٹ کے باہر  جڑانوالہ کی فرزانہ کو اس کے گھر والوں نے اینٹیں مار مار کر  موت کی نیند سلا دیا، جڑانوالہ کی فرزانہ نے اقبال نامی شخص سے پسند کی شادی کی تھی، جس پر لڑکی کے گھر والوں نے لڑکے کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کرا دیا تھا۔ جس کے بعد بدھ کے روز جب وہ مقدمہ کی سماعت کے لیے لاہور ہائی کورٹ پہنچی تو وہاں منصوبے کے تحت پہلے سے موجود اس کے بھائیوں، والدہ  اور والد نے گھیراؤ کرکے اس پر اینٹوں سے حملہ کردیا۔اسپتال ذرائع کے مطابق قتل ہونے والی فرزانہ حاملہ تھی۔ سماء

کی

Shahid Afridi

tariff

hostage

terrorist attacks

Tabool ads will show in this div