بھارتی سازشیں اورکل بھوشن کی پھانسی

kulbhoshan yadiv

گزشتہ برس مارچ کے مہینے میں بھارتی جاسوس کمانڈر کل بھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو براستہ ایران پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے بلوچستان کے علاقے ماش خیل  سے گرفتار کیا گیا ۔اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے پریس کانفرنس میں اس جاسوس کا اعترافی بیان بھی دکھایا جس میں کل بھوشن نے تسلیم کیا کہ وہ بھارتی نیوی کا آفیسر اور بدنام زمانہ ایجنسی را کا ایجنٹ ہے۔کل بھوشن 2003 سے ایران میں مقیم تھا ۔تاجر کے روپ میں وہ بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کو پھیلا رہا تھا اور پاکستان میں تخریب کاری کے لئے فنڈنگ فراہم کرتا تھا۔را کی جانب سے کل بھوشن کے نیٹ ورک کے ذمے بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنا ، بلوچ باغیوں کو فنڈنگ، کراچی میں بدامنی،پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات، سی پیک اور گوادر بندرگاہ پر حملے کرنا شامل تھا۔

کل بھوشن سنگلی مہاراشٹرا بھارت میں پیدا ہوا۔اس کے والد سدھیر یادیو ریٹائر اے سی پی ہیں ۔کل بھوشن نے 1987 میں انڈین نیشنل ڈیفنس اکیڈمی پونا جوائن کی ۔1991 میں انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا ۔2001 میں بھارتی نیول اینٹلی جنس جوائن کی۔کل بھوشن انیل گپتا کے ماتحت کام کرتا تھا اور کچھ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کا رشتہ دار بھی ہے۔2013 میں اس نے را کو جوائن کیا۔وہ ایران میں چاربہار بندرگاہ پر تاجر کے روپ میں کام کررہا تھا۔

KULBOSHAN ACCEPTANCE SOT 10-04

بھارت نے پاکستان کے خلاف جو نیا جنگی ڈاکٹراین بنا رکھا ہے اس کا مرکزی ہدف بلوچستان اور کراچی ہے۔ کل بھوشن علیحدگی پسندوں کو فنڈنگ دیا کرتا تھا،انہیں اسلحہ فراہم کرتا تھا۔ پوراپاکستان گواہ ہے کہ ضرب عضب اور کراچی میں رینجرز کے آپریشن سے پہلے حالات کس قدر خراب تھے۔ہر روز دہشتگردی کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔لیکن جیسے جیسے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کامیاب ہوتے گئے حالات میں بہتری آتی گئ۔کل بھوشن کی گرفتاری کے بعد تو بلوچستان اور کراچی دونوں میں حالات مزید بہتر ہوئے۔

کل بھوشن کی گرفتاری نے  بھارت کے پورے نیٹ ورک کو عیاں کردیا جو بھارت کے ایماء پر پاکستان میں دہشتگردی کررہا تھا۔یہ بروقت کارروائی کی گئی جس نے پاکستان کو بہت بڑی تباہی سے بچا لیا۔ تاہم اب بھی کل بھوشن کے یہاں پر موجود سہولت کاروں اور ہمدردوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ ان کو پکڑا جائے اورنشان عبرت بنا دیا جائے جو پیسوں کی خاطر دھرتی ماں کا سودا کرتے رہے۔واضح رہے کہ بھوشن پہلا بھارتی  جاسوس نہیں ہے جو پاکستان کی زمین سے پکڑا گیا ہے، اس سے پہلے سربجیت سنگھ، کشمیر سنگھ، رویندرا کوشک اور سرجیت سنگھ کو پاکستانی سرزمین پر جاسوسی کرتے ہوئے پکڑا گیا۔

Arrest-of-RAW-agent-Yadev-in-Pakistan

کل بھوشن کی پھانسی کے اعلان کے بعد سفارتی جنگ ہمیں جیتنا ہوگی اکثر پاکستان جیتی ہوئی بازی مذاکرات کے میز پر ہار جاتا ہے۔ جب کل بھوشن کی پھانسی کے حوالے سے خبر جاری کی گئی تو بھارتی میڈیا اور سرکار کی طرف توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کردیا گیا ۔پاکستانی میڈیا کے کچھ حصے کی طرف سے تو موثر جواب دیا گیا لیکن سفارتی بابوؤں اور حکومتی ارکان کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔کیا کل بھوشن پر بیان دینا صرف فوج کی ذمہ داری ہے کیا ملک کا دفاع کرنا صرف صحافیوں کا کام ہے۔ کیا وزرات خارجہ ، وزرات اطلاعات اور وزرات دفاع کو اس ضمن پریس کانفرنس اور عالمی دنیا کو اعتماد نہیں لینا چاہئے تھا۔ مسلم لیگی ارکان کاایک گروپ پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کرنے کے ریکارڈ توڑ چکا ہے کیا ان کی طرف سے کوئی پریس کانفرنس نہیں بنتی تھی۔کیا آپ لوگ صرف گلی محلے کی سیاست کرنے کے اہل ہیں، کیا آپ عالمی سیاست اور سفارت کاری نہیں کرسکتے ۔

ہم سفارتی طور پر گونگے کیوں ہیں۔ بھارتی رویہ ہمیشہ جارحانہ ہوتا ہے اور پاکستان کا معذرت خواہانہ کیوں ۔ان کا ایک حاضر سروس آفیسر نام بدل کر یہاں ملتان کے آم یا کوئٹہ کی سجی تو نہیں کھانے آیا تھا ۔ظاہر ہی سی بات ہے وہ دہشتگردی کا نیٹ ورک پھیلا رہا تھا تو اس بات پر ہماری حکومت واویلا کیوں نہیں کررہی ۔کس بات پر خاموشی ہے۔پاکستان کے مفاد پر اگر پاکستان کے منتخب نمائندے نہیں بات کریں گے تو کون کرے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا ذکر تک نہیں کیا اور نا ہی کل بھوشن کے نیٹ ورک کا پردہ فاش نہیں کیا۔سرتاج عزیز نے تو سینٹ میں یہاں تک کہہ دیا کہ کل بھوشن کے خلاف ناکافی ثبوت ہیں ۔یہ کیا ہورہا ہے کیا ریاست پاکستان میں اداروں کے مابین کوئی اتحاد نہیں جبکہ معاملہ ایک جاسوس کا ہو ملکی سالمیت کا ہو۔

مجھے تو کل اس بات پر بھی بہت حیرت ہوئی جب کچھ خودساختہ دانشوروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ کل بھوشن کا ٹرائل فیئراینڈ فری نہیں تھا۔اس وقت انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ ایسا لوگ صرف پاکستان میں ہی پیدا کیوں ہوتے ہیں ۔جو ملکی سالمیت کے معاملے پر بھی پاکستان پر انگلی اٹھاتے ہیں ۔ایک طرف ششما سوراج پاکستان کو دھمکیاں دی رہی ہیں ۔دوسری طرف پاکستان کی حکومت سفارت سطح پر خاموش اور کچھ دیسی دانشور بھی پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگے ہیں ۔ٹویٹر پر بھی کچھ پاکستانی کل بھوشن کے حق میں ٹویٹ کرتے رہے ۔ہاں بھئی آپ کو شوق ہوگا کہ لوگ آپ کو لبرل نقاد کے طور پر یاد کریں لیکن یہ کوئی لبرلزازم نہیں یہ صرف ملک اور قوم کے ساتھ غداری ہے۔

سن1971 میں بھارتی سازشوں کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوگیا تھا۔جس کے لئے کام بہت پہلے سے شروع کردیا گیا تھا۔1962 سے را شیخ مجیب کے ساتھ رابطے میں تھی۔کلکتہ میں مجیب نگر یوں ہی نہیں بنا دیا گیا تھا۔مکتی باہنی آزادی کی نہیں را کی بنائی ہوئی فورس تھی ۔جنہوں نے پاکستانیوں پر مظالم ڈھائے اور بدنام پاکستان کی فوج کو کیا ۔اس وقت تو ذرائع ابلاغ اتنے موثر نہیں تھےاورنہ ہی انٹرنیٹ تھا۔لیکن اب تو یہ چیزیں موجود ہیں ۔جنگ وہ ہی پرانی ہے بھارتی سازشیں اور پاکستان کی بقا ہرپاکستانی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ سچ کو سامنے لائے اور بھارتی سازشوں کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کرے۔

کل بھوشن کی پھانسی بہت بڑا معاملہ ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کو اپنے تمام سفیروں کو مراسلے بھیجنے چاہیں جس میں کل بھوشن کے نیٹ ورک سے متعلق تمام معلومات دستاویزات کے ساتھ موجود ہوں تاکہ دنیا بھر میں پاکستانی سفیر پاکستان کا دفاع کرسکیں ۔ اقوام متحدہ میں بھی پاکستانی سفارت کار یہ باور کروائیں بھارت اپنے ہمسایہ ملک میں دہشتگردی کروارہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں ملا فضل اللہ اور داعش کو مالی معاونت دے رہا ہے۔

اس کے ساتھ پاکستانی میڈیا اپنے ملک کی سالمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے رپورٹ کرے۔سیاسی معاملات کچھ اور ہوتے ہیں لیکن ملکی سالمیت کے معاملات پر کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے ۔کل بھوشن کے ہمدرد بھارت میں ہوں تو یہ ایک فطری بات ہے لیکن اگر اس ہمدرد پاکستان میں ہیں تو ان سے یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ آپ کا ایجنڈا کیا ہے ؟ ایک شخص جو آپ کے ملک کو توڑنے کے لئے کام کررہا تھا اس سے آپ ہمدردی کس طرح کرسکتے ہیں ۔کل بھوشن کو سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ دیگر بھارتیوں کو عبرت حاصل ہو کہ ہمسایوں کے ساتھ طریقے سے رہنے کا ڈھنگ سیکھیں ۔

raw agent

KULBHUSHAN JADHAV

Tabool ads will show in this div