کراچی ازخود نوٹس سماعت، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

اسٹاف رپورٹ

کراچی: شہر قائد میں امن وامان پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔

از خود کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا لاجر بینج کر رہا تھا جس کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کررہے تھے۔

 ازخود نوٹس کی سماعت 26 اگست کو شروع ہوئی تھی جس پر کراچی رجسٹری نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور ایڈووکیٹ‌ جنرل سندھ کو ہدایت کی ہے کہ شہر قائد میں جرائم کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں‌جمع کروائیں۔

سماعت کے دوران لارجر بینچ اور وفاق کے وکیل بابر اعوان میں گرما گرم بحث بھی دیکھنے میں آئی۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی کا کہنا تھا کہ پرچی آتی ہے کہ اپنی کھال دینی ہے یا جانورکی۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو کھالیں جمع کرنے کے خلاف قانون سازی کی ہدایت کی جبکہ شہر میں بھتہ خوری پر ایڈیشنل آئی جی کو تمام ڈی آئی جیز سے بھتہ خوری بند ہونے یا نا ہونے کا سرٹیفیکیٹ لے کر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی ہے۔

وفاق کے وکیل بابراعوان نے بھی عدالت میں اپنے دلائل  پیش کیے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیتے کہ سوائے کراچی کے تمام جگہ ادارے کام کرہے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ بتائیں شہر میں امن ہوگیا اور 1300 افراد مارے گئے ، کیا، کیا گیا؟ ۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو 24 اگست کے بعد ہونے والی بھتہ خوری کے مقدمات اور ملزمان کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اگر تلاش کیا جائے توہر مسئلے کا حل آئین میں موجودہے۔ سماء

burger

نے

فیصلہ

Blasphemy

کرلیا

Tabool ads will show in this div