کالمز / بلاگ

دورہ حیدرآباد، میاں صاحب کی سیاسی بصیرت

Hyderabad-Jovago-Pakistan-660x400

چلیں دیر سے ہی سہی وزیراعظم صاحب کو غریب و متوسط طبقے کی یاد تو آئی. حکومتی مدت کے چار سال گزارنے کے بعد اچانک انہیں یاد آیا کہ حیدرآباد میں بھی ان کے ورکرز موجود ہیں جن سے انھوں نے خطاب فرمانا ہے۔ ویسے آج کل میاں صاحب کی یاداشت کمال عروج پر ہے اور بھولے بسرے لوگ اچانک ایسے یاد آنے لگے ہیں جیسے قطری شہزادے کے خط یاد آئے اور ان سے کمال ذہانت کے ساتھ کام لیا۔ یقینا میاں صاحب اِسی امید کے ساتھ کہ جس طرح اِن خطوط کے ذریعے وہ پاناما کے سونامی کو شکست دینے میں پرامید ہیں اسی طرح وہ کراچی حیدرآباد کا خالی سیاسی میدان دیکھتے ہوئے غریب و متوسط طبقے کو گود لیکر پوائنٹ اسکورنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران میاں صاحب کا بطور وزیراعظم سندھ کا یہ تیسرا دورہ ہے حیدرآباد سے پہلے کراچی اور ٹھٹھہ کو رونق بخش چکے ہیں۔

حیدرآباد میں کنونشن سے خطاب کے دوران وزیراعظم صاحب نے حیدرآباد کے لیے پانچ بڑے پیکجز کا اعلان کیا جن میں حیدرآباد کے غریب عوام کےلیے ہیلتھ کارڈ کا اجراء جس سے حیدرآباد کے غریب عوام کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں گی، لاہور طرز پر میٹرو بس سروس کی شروعات ، کافی عرصے سے غیر فعال ائیرپورٹ کو بین الاقوامی سطح پر فعال بنانا ،بلدیاتی اداروں کے لیے پچاس کروڑ کی گرانٹ اور سب سے بڑھ کر حیدرآباد کے عوام کا درینہ مطالبہ حیدرآباد شہر میں یونیورسٹی کا قیام جبکہ اس پر فوری عملدرآمد کےلیے سو کروڑ روپے کے فنڈز جاری کرنا شامل ہے۔ میاں صاحب نے جس طرح اچانک کراچی حیدرآباد پر اپنی نظر کرم فرمائی ہے اس سے ان کے ارادوں کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ میاں صاحب اگلی باری بھی اپنی باری کی نیت باندھے بیٹھے ہیں جس کو لیکر وہ کراچی حیدرآباد کے خالی سیاسی میدان میں اترتے دکھائی دیتے ہیں اور اپنی سیاسی بصیرت سے خالی جگہوں کو پُر کرتے نظر آتے ہیں جوکہ ایک دانشمندانہ حکمتِ عملی ہے۔

Hyderabad-Photos-Sindh-University-Old-Campus-Hyderabad-Images-of-Hyderabad-Pakistan

اگر ہمارے قارئین کو یاد ہوتو یہ بات ہم نے کچھ ماہ پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کو سمجھا نے کی کوشش کی تھی اور اپنے کالم بعنوان "کراچی کے عوام پیپلزپارٹی کے منتظر" میں واضح طور اِس امر کی جانب اشارہ کیاتھا کہ پیپلزپارٹی کو سندھ کے شہری علاقوں بالخصوص کراچی حیدرآباد میں پارٹی کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس کےلیے وہ اردو بولنے والوں کے لیے پارٹی میں اپنے دروازے کھولیں، یہی موقع ہے کہ جب پیپلزپارٹی کےلیے اردو بولنے والوں کے دلوں میں جگہ بنائی جاسکتی ہے۔  یکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس فہم کو سمجھنے میں پیپلزپارٹی ابھی تک سنجیدہ نظر نہیں آتی جبکہ میاں صاحب اِس حوالے سے متحرک ہوچکے ہیں اور اِس بات کا قوی امکان ہے کہ مستقبل قریب میں 2018 کے انتخابات کےلیے میاں صاحب ایم کیوایم پاکستان سے سیاسی اتحاد بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

SAMAAHDL9PM  27-03

حیدرآباد کے مئیر و ڈپٹی مئیر کو پچاس کروڑ کی گرانٹ جبکہ یونیورسٹی کے لیے سو کروڑ کی رقم فراہم کرنا اِسی امر کی جانب اشارہ ہے جوکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ نومولود جماعت پاک سرزمین پارٹی کےلیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کی اِس حوالے سے کیا ترجیحات ہیں اور وہ مستقبل میں کیا حکمتِ عملی اپناتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اتحاد آنے والے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کےلیے کافی مشکلات کھڑی کرسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں صاحب بطور وزیراعظم اپنے کئے گئے اعلانات پر کس حد تک عملدرآمد کو ممکن بناتے ہیں۔

یوں تو یہ اعلانات حیدرآباد کے عوام کےلیے میاں صاحب کی جانب سے پچھلے پانچ سالوں سے نظرانداز کئے جانے کا مکمل احاطہ کرتے ہوئے مظلوم طبقے کی دادرسی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں بشرطیکہ اِن اعلانات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ابھی الیکشن میں پورا ایک سال کا عرصہ باقی ہے، میں سمجھتا ہوں اگر اِس عرصے میں میاں صاحب حیدرآباد کے عوام سے کئے گئے وعدوں پر پچاس فیصد بھی عملدرآمد کو ممکن بنالیتے ہیں تو سمجھیں وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔

PM Nawaz Sharif

pm visit hyderabad

Tabool ads will show in this div