قومی اسمبلی: بجٹ پر بحث میں ارکان کی عدم دلچسپی پر حکومت کو شرمندگی کا سامنا

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کی بجٹ پر بحث میں عدم دلچسپی کے باعث حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، کورم پورا نہ ہونے کے باعث کارروائی ایک گھنٹہ معطل رہی، اپوزیشن کی جانب سے وفاقی وزراء کے رویے پر بھی سخت تنقید کی گئی۔

کھانے کے وقفے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ایوان میں گنتی کے ارکان موجود تھے، تحریک انصاف کی رکن شریں مزاری نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی، جس پر اسپیکر نے کورم پورا ہونے تک اجلاس ملتوی کردیا۔

ایک گھنٹہ تک کورم پورا نہ ہوا اور کارروائی معطل رہی،  اپوزیشن ارکان سید خورشید شاہ کی قیادت میں ایوان میں آئے تو کورم پورا ہوا اور کارروائی شروع ہوئی۔

اپوزیشن لیڈر نے کورم کے معاملہ پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، کہنے لگے ہم نہ آتے تو کورم پورا نہیں ہوسکتا تھا، کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اپوزیشن کی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے طے کیا تھا کہ بجٹ سیشن میں بائیکاٹ نہیں کرینگے، اس ایشو پر حکومتی اراکین کو پرسنل ہونے کی ضرورت نہیں، ذاتی حملے کریں گے تو حکومت کیلئے ایک جمشید دستی ہی کافی ہے۔

بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پی ٹی آئی کے اسد عمر نے کہا کہ تحریک انصاف ناانصافی پر مبنی ملک دشمن بجٹ کو مسترد کرتی ہے، شرح نمو سے متعلق ایوان میں جھوٹ بولا گیا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ شرح نمو 3.3 فیصد ہے، برآمدی ہدف 10 ماہ میں 8 کے بجائے 2 فیصد رہا، مالیاتی خسارہ بڑھ کر 2.1 فیصد ہوگیا ہے۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی محبوب عالم نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کا نظام بہتر بنایا جائے اور زکوٰة کی تقسیم درست طریقے سے کی جائے، بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ سماء

Video

reaction

Tabool ads will show in this div