حکومتی اراکین نےٹرین مارچ کرنیوالوں کوآڑےہاتھوں لےلیا

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ


اسلام آباد : قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان نے دھرنے دینے اور ٹرین مارچ کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا، پارلیمانی سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ تبدیلی دھرنوں اور ٹرین مارچ سے نہیں قانون سازی اور نمائندگی سے آتی ہے، خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ دھرنے والے باتیں بنا رہے ہیں جبکہ حکومت بجلی بنا رہی ہے۔ قومی اسمبلی کا آئندہ تین روز کا ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، پارلیمانی سیکرٹری داخلہ مریم اورنگزیب نے کہا کہ تبدیلی دھرنوں اور ٹرین مارچ سے نہیں قانون سازی اور نمائندگی سے آتی ہے۔

وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ دھرنے والے باتیں بنارہے ہیں جبکہ حکومت بجلی بنا رہی ہے۔ انہوں نےسوال کیا کہ گڈانی، نیلم جہلم، داسو، بھاشا اور تھر کول کس صوبے میں ہیں انہوں نے چاروں صوبوں کا دورہ کیا تو عوام نے بجلی ہی مانگی اس لئے ایک سال میں عوام کی طلب پوری کرنے کا انتظام شروع کر دیا۔ داسو اور تھر کول کیلئے تختیاں ایک عرصے سے لگ رہی تھیں لیکن دونوں منصوبوں کیلئے فنڈز نوازشریف نے حاصل کئے، چند ماہ میں ایل این جی ٹرمینل کا بھی افتتاح ہوجائے گا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ اگلے تین روز کے دوران ایوان ایک سو ساٹھ کھرب چوہتر ارب روپے کے لازمی اخراجات کی منظوری دے گا مختلف وزارتوں اور ڈویژن کے ایک سو پینتالیس مطالبات زر بھی منظور کئے جائیں گے۔ قومی سلامتی پالیسی پر عمل جاری ہے، بجٹ میں وفاق امن و امان پر دو ارب اناسی کروڑ روپے خرچ کرے گا جبکہ صوبوں نے امن و امان کیلئے ستائیس ارب اسی کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے واضح کیا کہ وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ وفاقی وزیر سردار یوسف نے کہا کہ پنجاب کی طرح چاروں صوبوں میں قرآن کورٹ بنائی جائے گی اور قرآن پاک کے تقدس کیلئے قانون سازی کریں گے۔ ایک کیو ایم کے رشید گوڈیل نے کہا کہ تھری جی اور فور جی کی شفاف نیلامی کا دعوی غلط ہے،ایک موبائل کمپنی نے نیلامی سے 3 دن قبل ہی اپنی کامیابی کا اعلان کر دیا تھا۔ سماء

serena

Tabool ads will show in this div