طاہر القادری پاکستانی شہری ہیں انہیں وطن آنے سے نہیں روکا جاسکتا، دفتر خارجہ

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ

اسلام آباد : ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ میزائل حملوں اور وزیرستان آپریشن کا کوئی تعلق نہیں، میزائل حملوں کو پاکستان کی تائید حاصل ہونے کا تاثر غلط ہے، طاہر القادری کو پاکستان آنے سے روکنے کیلئے طارق فاطمی کی کینیڈین ہائی کمشنر سے ملاقات کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، طاہر القادری پاکستانی شہری ہیں انہیں وطن آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان حکام نے وزیرستان آپریشن کے حوالے سے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے، افغانستان سے سیاسی اور عسکری سطح پر رابطے موجود ہیں، پاکستان کی سرزمین افغانستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے اور افغانستان سے بھی یہی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے میزائل حملوں کا معاملہ عالمی سطح پر پوری شدت سے اٹھایا ہے، یہ حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، میزائل حملوں اور وزیرستان آپریشن کا کوئی تعلق نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ طاہر القادری کی آمد رکوانے کیلئے طارق فاطمی کی کینیڈین ہائی کمشنر سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، طاہر القادری پاکستانی شہری ہیں، ان کو پاکستان آنے سے روکنے کا کوئی قانون نہیں، صرف کسی دوسرے ملک کے شہری کو بعض خدشات کے پیش نظر پاکستان میں آنے سے روکنے کی استدعا کی جاسکتی ہے۔ سماء

war

german

law

دفتر

خارجہ