میچ فکسنگ اور پاکستانی کرکٹ

Mar 16, 2017

l_133933_035932_updates

پاکستان سپر لیگ ٹو کے دوران بکیز سے روابط رکھنے کی وجہ سے پہلے شرجیل خان اور خالد لطیف پر عارضی پابندی لگائی گئی، جس کے بعد اب پاکستان سپر لیگ ٹو کے دوران ہی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر محمد عرفان پربھی عارضی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

پاکستانی کرکٹ میں اسپاٹ فکسنگ اور میچ فکسنگ کا المیہ زیادہ پرانا نہیں، پی ایس ایل ٹو سے پہلے 2010 میں پاکستانی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے دوران تین پاکستانی پلیئرز بھی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے۔ جن میں سابق کپتان سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف شامل تھے۔ جوکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے دی گئی سزا مکمل کرچکے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کا آغاز جسٹس قیوم انکوائری کمیشن نے 9 ستمبر 1998 کو کیا۔ جسمیں 90 کی دہائی اور اس سے پہلے کھیلے گئے میچز میں ہونیوالی فکسنگ سے متعلق تحقیقات کی گئیں۔

انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہونیوالے سابق سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی کرکٹ میں فکسنگ کا آغاز 80-1979 میں بھارت جانیوالی پاکستانی ٹیم کے کپتان آصف اقبال نے کیا تھا۔ جنھوں نے میچ ٹاس کے دوران ٹاس مکمل ہونے سے پہلے ہی بھارتی کپتان گنڈاپا وشواناتھ کو ٹاس جیتنے کی مبارکباد دے دی تھی۔ جس کا زکر سابق بھارتی کپتان نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔

اس کے علاوہ 95-1994 میں ہونیوالے آسٹریلیا کے دورہ پاکستان مکمل ہونے کے بعد تین آسٹریلوی کھلاڑیوں شین وارن، ٹِم مے اور مارک واہ نے الزام لگایا کہ پاکستانی کپتان سلیم ملک نے انھیں خراب باؤلنگ کروانے کیلئے رشوت کی پیشکش کی تھی۔ پاکستان یہ ٹیسٹ سیریز 0-1 سے جیت گیا تھا۔

آسٹریلیوی پلیئرز کے الزامات کی بنیاد پر پی سی بی نے جسٹس ریٹائرڈ فخرودین جی ابراہیم کو تحقیقات کرنے کی درخواست کی۔ جنھوں نے 21 اکتوبر 1995 کو جمع کروانے والی رپورٹ میں غیر تسلی بخش ثبوتوں کی بنیاد پر سلیم ملک کو بے قصور ٹھرایا۔ اس تحقیقات میں آسٹریلوی کھلاڑیوں نے پاکستان آکر گواہی دینے سے معضرت کرلی۔

اسی دور میں پاکستانی پلیئرز باسط علی اور راشد لطیف نے بھی چند پاکستانی پلیئرز پر میچ فکسنگ کے الزامات لگائے۔ انہی الزامات کے تناظر میں دونوں پلیئرز نے اہم ترین دورہ ساؤتھ افریقہ سے پہلے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی کردیا۔ بعد ازاں ایسے ہی الزامات عامر سہیل اور عاقب جاوید کی طرف سے بھی سامنے آئے۔

انہی الزامات کی تحقیقات کیلئے جسٹس اعجاز یونس کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی۔ جس نے مخصوس پلیئرز کی معطلی کی درخواست کی۔ لیکن کمیٹی پر ہونے والے اعتراضات کی وجہ سے تحقیقات میں سامنے آنے والے الزامات کو رد کردیا گیا۔

ان حالات میں سابق چیف ایگزیکٹو کرکٹ بورڈ ماجد خان نے پیٹرن ان چیف کو لکھے گئے خط میں میچ فکسنگ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کی درخواست کی ۔ جس کے جواب میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے جسٹس ملک محمد قیوم کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا۔

جسٹس قیوم کمیشن کی رپورٹ کے مطابق سلیم ملک، عطاالرحمان، مشتاق احمد، وسیم اکرم، وقار یونس، سعید انوراور انضمام الحق کو کسی نا کسی طرح ملوث پایا گیا۔

ان کھلاڑیوں کے جواریوں کی مرضی کے مطابق کھیلنے کے عوض رشوت لینے کے ثبوت پائے گئے اور انھیں سزائیں ہوئیں۔ جبکہ دیگر کھلاڑیوں کو عدم ثبوتوں کے باعث جرمانے کئے گئے۔

سلیم ملک پر تاحیات پابندی کے علاوہ 12 ہزار پاؤنڈ جرمانہ ہوا۔ عطاؤ ارحمان پر بھی تاحیات پابندی اور 12 ہزار پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا۔

مشتاق احمد کے خلاف قابل گرفت ثبوت نا ملنے کی وجہ سے صرف 3700 پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا۔ وسیم اکرم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے 3700 پاؤنڈ کا جرمانہ کیا گیا اور سفارش کی گئی کہ وسیم اکرم کے اثاثوں کی تحقیقات کروائیں جائیں۔

وقار یونس کے خلاف رشوت کے طور پر کار وصول کرنے کے ثبوت تو نہپیں ملے۔ لیکن 1200 پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا۔

انضمام الحق اور اکرم رضا کے خلاف بھی ثبوت نا ملنے کی وجہ سے 1200 پاؤنڈ فی کس جرمانہ کیا گیا۔

جسٹس قیوم کمیشن اور 2010 کے دورہ انگلینڈ میں تین پاکستانیوں کے نام سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر پاکستانی پلیئرز کے نام اسپاٹ فکسنگ میں سامنے آئے ہیں۔

اگر پہلے جسٹس قیوم کی رپورٹ میں سامنے آنے والے پلیئرز اور پھر دورہ انگلینڈ میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث پلیئرز کے خلاف سخت کاروائی کی گئی ہوتی تو یقیناٌ پی ایس ایل میں کسی بھی پلیئر کی جرات ناہوتی کہ وہ کسی بکیے سے رابطہ کرتا۔

Khalid Latif

sharjeel khan

PSL final

PSl 2017

psl match fixing

Tabool ads will show in this div