میراشہرمیرا مان

KARACHI: March 18 – A deserted view of Shahrah-e-Faisal due to strike called by transporters. APP Photo by Syed Abbas Mehdi

کل شاہراہ قائدین سے نکل کر شاہراہِ فیصل کی طرف سے کہیں جانا ہوا۔شاہراہِ قائدین وہی جس کو میں خوشیوں بھری سڑک کہتی ہوں ۔کچھ سال پہلے تک وہ عام سی ایک شاہراہ ہوا کرتی تھی ۔پھر نہ جانے کیسے اس کی قسمت چمک اٹھی۔پھر نہ صرف شاہراہِ فیصل سے مزارِ قائد تک سڑک بن گئی ،بلکہ دونوں طرف معیاری کھمبے اور بہترین بلب بھی لگ گئے۔

ان دنوں تقریباً روز ہی وہاں سے گزر ہوتا تھا ۔کل جب وہاں سے گزر ہوا تو یہ دیکھ کر مزید خوشی ہوئی کہ دونوں سڑکوں کے درمیانی جگہ پر بڑے بڑے کلرفل گملے مناسب فاصلے سے رکھے تھے اور آنکھوں کو بہت بھلے لگ رہے تھے ۔آجکل تو طارق روڈ پورا ہی طریقے سے بن رہا ہے ۔جو اس سے پہلے میں نے زندگی بھر میں نہيں دیکھا ۔راتوں میں بھی کام ہورہا ہے۔امید ہے کہ جلد ہی بن جائیگا اور یہاں کے مکینوں کو سکون میسر آئے گا ۔جب طارق روڈ کی سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع ہوا ،تب مجھے بڑی خوشگوار حیرت ہوئی ۔تب مجھے بتایا گیا کہ یہ روڈ اس لئے بن رہا ہے کہ طارق روڈ پر نئے تعمیر ہونے والے شاپنگ مال کا افتتاح ہونے والا ہے،جسکی وجہ سے اس روڈ کے نصیب جگمگائے ہیں اور جگمگائی تو خوشیوں بھری سڑک بھی اسی لئے تھی کہ اس زمانے میں اس شاپنگ مال کا افتتاح ہوا تھا ۔ بہرحال یہاں پر بات ہورہی تھی سڑکوں کی۔یہ آپ کا میرا سبھی کا۔رونا ہے کہ کراچی میں جہاں نکل جائیں سڑکیں شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔تقریباً ہر طرف یہی حال ہے ۔کہنے کو کہیں کہیں کام ہورہا ہے جیسے کہ یونیورسٹی روڈ،جو عرصۂ دراز سے انڈر کنسٹرکشن ہے۔کام ہے کہ ہوئے ہی جارہا ہے،کسی طور مکمل نہیں ہورہا ۔وہاں کے لوگوں کے لیئے باعثِ اذیت بنا ہوا ہے۔ حکومت نےگرانٹ مختص کردی ہے اور فنڈنگ بھی کی جاچکی ہے۔پھر بھی کیا وجہ ہے کہ اب تک کام چیونٹی کی رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہا ۔ایک جگہ ایک سیشن میں کسی اخبار نویس نے ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی محترمہ شہلا رضا سے انہیں سڑکوں کے حوالے سے سوال کیا تھا ۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کا کام تھا کام شروع کروانا وہ ہم نے کروا دیا ہے ۔تاخیر کی وجوہات بتانے سے انہوں نے اجتناب ہی کیا تھا ۔اور یہ سوال تو نظر انداز ہی ہوگیا کہ عملدرآمد کروانا کس کی ذمہ داری ہے ۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ سڑکیں ایک تو اتنی مشکل سے کبھی بنتی بھی ہیں۔ ایک بارش میں وہ بہہ بھی جاتی ہیں اور میری اس بات سے تو آپ بھی اتفاق کریں گے کہ سڑکیں بن کر تیار ہی بارش سے چند دن پہلے ہوتی ہیں اور عوام کی خوشی ادھوری ہی رہ جاتی ہے اور مسئلہ بھی جوں کا توں رہتا ہے ۔یہ حال نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ کا ہے۔

KARACHI, PAKISTAN, OCT 08: Commuters passing through nearby the hole on bridge near  Natha Khan Goth of Shahrah Faisal which may cause any serious accident, in Karachi on  Thursday, October 08, 2015. (S.Imran Ali/PPI Images).

صورتحال دن بہ دن افسوس ناک ہوتی جارہی ہے ۔پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ایسے حالات نہيں ۔وہاں پر بنائے گئے بہترین سڑکوں کے جال آپ کو  احساسِ کمتری میں مبتلا کردیں گےکہ ہم جس شہر کے رہنے والے ہیں وہ وفاق کو سب سے زیادہ ریوینیو دیتا ہے ۔کچھ ذکر ان اوور ہیڈ برجز کا بھی جو کئی جگہ پر غیر ضروری طور پر بنائے گئے ہیں ،میں صرف دو کا ہی ذکر کروں گی ،باقی حکومت ازخود نوٹس لے۔ایک تو جیل چورنگی پر بنایا جانے والا برج۔کوئی مجھے اسکی افادیت تو بتا دے۔اس سے عوام کو صرف تکلیف کا سامنا ہےاور اس کا ہونا مشکلات میں اضافہ کرنا ہی ہے کیونکہ کسی بھی پلاننگ کے بغیر اس برج کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ دوسرا ائیرپورٹ کے داخلی دروازے پر تعمیر کردہ برج۔پہلے بھی کراچی کی بدصورتی میں صرف اضافہ ہی ہورہا ہے وفاق کے نظرانداز کرنے کی وجہ سے ۔مزید یہ کہ سیاح جو کہ پہلے ہی کراچی نہیں آتا وہ اگر آجائے تو اتنا خوب صورت نظارہ سامنے ہی رکھا ہو ۔پھر آپ خود سوچ لیں کہ کیا تاثر بنتا ہے اور سیاح یہاں پر آئیں یہ امید تو یہ شہر نہ ہی رکھے تو صحیح ہے ۔

Shahrae Faisal Carpet KHI PKG 22-02 TABISH چیف جسٹس ثاقب نثار سے درخواست ہے کہ کراچی کا تفصیلی دورہ کریں یا کروائیں اس کی رپورٹس کا بغور جائزہ لیکر اس ملک کے سب سے بڑے ۔کماؤپوت اور قائداعظم کے شہر کی حالتِ زار پر رحم کھاتے ہوئے عملی اقدامات کریں اور اس لیول پر لا کھڑا کریں جو کہ واقعی میں انٹرنیشنل لیول ہوتا ہے کسی ملک کے سب سے بڑے شہر کا۔جبکہ کراچی شہر لاوارث شہر کے طور پر مشہور ہو گیا ہے ۔یہی التماس میری وزیراعظم  اور تمام متعلقہ حکام اور خاص طور پر سندھ کے محترم وزیر اعلیٰ جناب مراد علی شاہ صاحب سے بھی ہے ۔ اس اگست پاکستان 70سال کا ہوجائے گا ۔بانیِ پاکستان کا شہر آپکی اور حکومت کی نگاہِ کرم کا منتظر ہے۔

transport issue

Tabool ads will show in this div