گستاخانہ مواد،توہین رسالت کامرتکب کسی صورت نہیں بچےگا

Mar 13, 2017

pta-block-offensive-content-on-social-media-640x400

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/03/IHC-Case-Isb-Pkg-13-03.mp4"][/video]

اسلام آباد : جسٹس شوکت عزیز کا کہنا ہے کہ گستاخانہ مواد اور توہین رسالت کے مرتکب افراد کسی طور بچ نہیں سکیں گے، انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا، جسٹس شوکت کا کہنا تھا کہ کیس کا طویل فیصلہ سنایا جائے گا، جس کیلئے علماء کی مدد بھی لی جائے گی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی، سماعت کے آغاز پر جسٹس شوکت نے ریمارکس دیئے کہ لوگوں کو آزادی اظہار کے نام پر کنفیوز کیا جا رہا ہے، عوام کو آرٹیکل 19 سے متعلق آگاہ کیا جائے۔

those-uploading-blasphemous-material-on-social-media-are-terrorists-justice-shaukat-aziz-6cd6e69beb60bed46141a0c714945be9 جسٹس شوکت کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ہم ایسا فیصلہ دیں گے کہ دوبارہ اس آرٹیکل کی آڑ میں کوئی ایسا عمل نہ کرے،اس موقع پر عدالت نے  3 دن میں آرٹیکل 19 کی مکمل وضاحت کرنے کیلئے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور وزارت اطلاعات کو ہدایت کر دی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ اپنے خلاف دائر ریفرنس کیلئے سب کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف جو بهی الزامات ہیں ان پر اوپن ٹرائل کیلئے تیار ہیں، کچھ لوگوں کو ان کے آنسو نکلنے پر بھی اعتراض ہے۔ free-speech سیکریٹری داخلہ نے بتایا پی ٹی اے نے 70 سے زائد متنازعہ ویب سائیٹس کو بند کر رکها ہے، ایک ہفتے میں میں ذمہ داروں کا تعین کر لیں گے، کیس کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔ سماء

ISLAMABAD HIGH COURT

Blasphemous Content

Tabool ads will show in this div