وکی لیکس اور جاسوس ڈیوائسز

big-brother-is-watching-wikileaks-reveals-shocking-smartphone-hacking-programme-of-cia-53b776e9bd95650c2245f1fa739b8f4e

گزشتہ دنوں وکی ليکس نے اپنے نئے انکشافات میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے "سنٹرل انوسٹی گیشن ایجنسی" کے بارے میں ایک سنسنی خیز انکشاف کیاہے کہ سی آئی اے دنیا بھر میں جاسوسی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آئی فون، اسمارٹ فونز اور اسمارٹ ٹی وی ڈیوائسز کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کررہی ہے جس میں خفیہ معلومات سمیت لوگوں کی نقل وحمل پر نگاہ رکھنے سمیت مذکورہ ڈیوائسز میں موجود صارف کے مکمل ڈیٹا تک رسائی شامل ہے. اِس حوالے سے وکی لیکس نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اسمارٹ ڈیوائسز "آئی فون، اینڈ رائڈ موبائل اور اسمارٹ ٹی وی" تیار کرنے والی مقبول زمانہ کمپنیوں سے جاسوسی کے آلات نصب کرنے کا باقاعدہ معاہدہ کر رکھا ہے۔

Apple-clear-Wikileaks-allegations

وکی لیکس کی جانب سے لگائے گئے اِن الزامات کی ابھی تک کسی کمپنی نے تردید نہیں کی بلکہ کمپنیوں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ڈیوائسز میں مذکورہ خرابیوں کو دور کرنے کےلیے کام شروع کردیا گیا ہے جس سے وکی لیکس کی جانب سے کئے گئے دعوے کی مزید تصدیق ہوتی ہے. ویسے تو دنیا میں موجود تمام ریاستوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک و قوم کی بقا و سلامتی کے لیے جس قدر ممکن ہو اقدامات اٹھائے معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنے میں انسانیت کے ناطے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔

SmartTV

اگرچہ اسطرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال ایک ریاست کا اپنے مذموم مقاصد کے لیے دوسری ریاست کی جاسوسی کرنا ہے تو یہ عمل قابلِ گرفت بھی ہے قابل قابلِ مذمت اور قابلِ تشویش بھی لیکن اگر اِس ٹیکنالوجی کے استعمال کا مقصد معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنا ہے تو پھر اسے نہ صرف سراہنے کی ضرورت ہے بلکہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر اِس ٹیکنالوجی کے فروغ کےلیے ریاستوں کو ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے کی بھی ضرورت ہے اسطرح کی جدید ٹیکنالوجی کا درست استعمال معاشرتی تربیت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے جس کےلیے پاکستان سمیت تمام ممالک کو اِس جدید ٹیکنالوجی سے باہمی تعاون کے ساتھ استفاده حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

AP_235282703554

جس دن سے وکی لیکس نے یہ تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے لوگوں نے اِس کا منفی اثر لینا شروع کردیا ہے جبکہ میڈیا کی جانب سے بھی اس خبر کا منفی پہلو ہی سامنےلایا گیا جس کے باعث عوام ایک قسم کے خوف میں مبتلا ہیں صورتحال یہ ہے کہ ایک عام صارف اسمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے بھی ڈر رہا ہے. حالانکہ ڈیوائس استعمال کرنے والے ایک عام صارف کو اس طرح ڈرنے کی کیا ضرورت ہے اگر صارف کسی کرمنل ایکٹیوٹی یا کسی قسم کی جعلسازی یا پھر دہشتگردی جیسے واقعات میں ملوث نہیں ہے تو اسے اِس ٹیکنالوجی سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے. حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اِس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کرائمز کی روک تھام کے لیے انسانی جسم میں مائکرو چپ لگانے کا طریقہ وضع کیا ہے جس پر تجرباتی طور پر عملدرآمد بھی شروع ہوچکا ہے امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے اور ایک عام شہری کی نقل و حمل پر مستقل نظر رکھنے کی غرض سے بچے کے پیدا ہوتے ہی اسکے جسم میں ایک خاص قسم کی مائکرو چپ لگادی جائیگی جسکے ذریعے اسکے پیدا ہونے کے دن سے لیکر اسکے مرنے تک نہ صرف اسکی تمام معلومات ریاست کے پاس محفوظ ہوگی بلکہ اس کی تمام نقل و حمل پر بھی پوری طرح نظر رکھی جاسکے گی جس سے جہاں ایک جانب ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی تو دوسری جانب ایک عام شہری اِس ڈر سے کہ وہ پوری طرح ریاست کی پہنچ میں ہے اور اسکی ہر سرگرمی سے ریاست واقف ہے ایسا شخص خود کو ہر قسم کی مجرمانہ سرگرمی سے دور رکھے گا۔

57529173.cms

اسمارٹ فونز یا اِس جیسی دیگر ڈیوائسز سے عام شہریوں کی جاسوسی کرنا دراصل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس سے ایک عام شہری کو ڈرنے یا خوفزدہ ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ایک اچھا اور سچا انسان آخر کیونکر ڈرنے لگا جب اُس نے کچھ غلط کیا ہی نہیں اور نہ ہی وہ ایسی کسی سرگرمی میں ملوث ہونے کا ارادہ رکھتا ہے. ہاں البتہ بحیثیت ریاست اور قومی سلامتی کے اداروں کو سیکیورٹی خدشات کے باعث خود کو اِس سے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے. سوچیں اگر یہ ٹیکنالوجی پاکستان استعمال کرے اور ریاست کے ہر شہری کی نقل وحمل پر نظر رکھی جائے تو پھر نہ ملا فضل اللہ کو ڈھونڈنے کی ضرورت پیش آئے نہ فسادیوں کو کہیں جائے پناہ نصیب ہو۔

TV isolated

آج کے اِس شرانگیز دور میں انسان کے اندر سے خوفِ خدا ناپید ہوچکا ہے جس کی وجہ سے مختلف فتنوں میں گھِر کر شر کے راستے پر چل نکلا ہے کیا پتا اللہ رب العزت کیجانب سے عطا کی گئی جدید ٹیکنالوجی کے سبب انسان شر کا راستہ ترک کر کے خیر کے راستے پر چل نکلے۔

ESPONGE

USA

TALIBAN

SMART PHONE

smart TV

Tabool ads will show in this div