تاریخی عمارتیں وقت کے ساتھ نہ چل سکیں

CLOCK TOWER KHI PKG 07-03

کراچي : شہر قائد کي تاريخي عمارتيں وقت کے ساتھ نہ چل سکيں، ايمپريس مارکيٹ سے لے کر ڈينسوہال تک گھڑي کي سوئياں ساکت پڑي ہيں ۔

انسانوں کے چہرے پر آپ نے بارہ بجنے کا محاورہ سنا ہوگا مگر يہ کيا يہاں تو عمارت کے چہرے پر ہي بارہ بج گئے اور عمارت بھي کس کي جہاں کراچي کے مئير پوري شان سے بيٹھتے ہيں۔ رام دين پانڈے نے جان دي اور اس يادگار پر انگريزوں نے ايمپريس مارکيٹ بنادي، ايک گھڑي بنائي جو انگريز کے نظام ميں چلتي تھي مگر نظام گيا اور گھڑي رک گئي۔

کراچي ميں دکان دار تاخير سے اپني دکانيں کھولتے ہيں يہاں وقت کي ناقدري کا کچھ يہ عالم ہے کہ گھڑي مارکيٹ جوڑيا بازار کي گھڑي تک خراب ہے۔

سن 1886 کے ڈینسو ہال لائبریری کی گھڑی ہو یا 1882 کی تعمیر کردہ ڈنشا ڈسپینسری کا گھڑیال وقت کي پابندي کرنے والے محمد علي جناح کے شہر ميں وقت کي ناقدري کا ہر جگہ ہي حال ہے۔

ماہرين تاريخ کہتے ہيں کہ جو تاريخ بھلادے وہ وقت کہاں ياد رکھتا ہے، شہري کہتے ہيں برطانيہ سے آزادي لينے کا يہ مطلب تو نہيں کہ وقت کي پابندي بھي چھوڑدي جائے۔ سماء

clock tower

empress market

MA Jinnah Road

Denso hall

Tabool ads will show in this div