غلطی کس کی؟

10

ستاروں بھری شام تھی، لاس اینجلس کا ڈولبی تھیٹر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، سب کی نظریں اسٹیج پر تھیں اور کان اعلان سننے کیلئے بے قرار، فلمی دنیا کے سب سے بڑے اعزاز آسکر کی بڑی اہم گھڑی آن پہنچی تھی، سال کی بہترین فلم کے ایوارڈ کیلئے پردہ گرا، اداکار وارن بیٹی اور فے ڈن اوے اسٹیج پر سرخ کارڈ لئے نمودار ہوئے تو ہال میں موجود ہر فرد کی دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہوگئیں۔ بیٹی نے کارڈ کھولا اور چند لمحے ساکت رہنے کے بعد ساتھی پریزینٹر فے کے سامنے کردیا اور بہترین فلم کے ایوارڈ کا اعلان ہوگیا، لالا لینڈ کی گونج سنائی دی، کاسٹ بنا تاخیر اسٹیج پر پہنچ گئی۔

10a

ٹریبیوٹ اسپیچ جاری ہی تھی کہ اچانک فلم لالا لینڈ کے پروڈیوسر بیچ میں آگئے، دل بڑا کرکے اصل ونر کا اعلان کیا، بہترین فلم کے کارڈ پر لالا لینڈ نہیں مون لائٹ کا نام تھا، خوشی منانے والے چہروں پر یکدم حیرانی پریشانی بکھر گئی، فاتح فلم کی کاسٹ کی بھی کیفیت جدا نہ تھی، شو کے میزبان نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی، پریزنٹر وارن بیٹی نے بھی وضاحت پیش کی کہ غلطی سے بہترین اداکارہ کا کارڈ ہاتھ میں آگیا تھا، گھمبیر صورتحال کو دیکھتے ہوئے مزاحیہ اداکار اور معروف میزبان جمی کمل بھی مدد کو آن پہنچے۔

10b

ستاروں بھری شام کا چٹکلے اور قہقہوں پر اختتام ہوا، ساتھ ہی آسکر کے ووٹس کی کاؤنٹنگ کو مانیٹر کرنیوالی فرم پرائس واٹر ہاؤس کوپرز کی معذرت بھی سامنے آگئی، لیکن وضاحت اور معذرتوں سے سماجی رابطوں کی دنیا پر سونامی کہاں رکتا، ٹوئٹر پر چند ہی لمحوں میں ہیش آسکر کا سیلاب آگیا، بیٹی اور فے کے نام پیغامات کا سلسلہ چل پڑا، ایوارڈ تقریب ٹاپ ٹرینڈ بن گئی، کسی نے، کاش کے ساتھ امریکی صدارتی انتخاب کے اعلان میں بھی اسی طرح کی غلطی کی خواہش کا اظہار کیا تو کسی نے لالا لینڈ کے پروڈیوسر سے الیکشن میں ہونیوالی غلطی کو سدھارنے کی فریاد کردی۔

10c

آسکر کی اس تاریخی غلطی سے 2015ء میں مس یونیورس کا تاج غلطی سے فلپائن کی جگہ کولمیبا کی حسینہ کے سرسجانے والے میزبان اسٹیو ہاروے کے حامیوں کو تو جیسے موقع مل گیا ہو، 2 منٹ کیلئے مس یونیورس 2015ء بننے والی حسینہ کی زندگی کے تاریخی لمحات کا باب بند کرنے نکل پڑے، کئی سر پھرے فلمی پرستار تو اسقدر غصے سے لال پیلے ہوئے کہ آسکر کی تقریب خراب کرنے کا الزام بھی روس پر دھر دیا۔

10d

سوشل میڈیا پر بحث چھڑے، یا ڈولبی تھیٹر کے باہر احتجاج ہو،  ایوارڈ لالا لینڈ کو ملے یا مون لائٹ کے نام ہو، آسکر کو متنازع کہنے والے فلمی ناقدین کو اس سے غرض نہیں، جو سب سے بڑے فلمی اعزاز کو سب سے متنازعہ اور سیاسی قرار دیتے ہیں۔ 1998ء میں ٹائی ٹینک کے مقابلے میں ایوارڈ نہ جیتنے والی سویٹ ہئر آفٹر ہو یا پھر 2016ء میں سیاہ فام اداکاروں پر دروازے بند کرنیوالی فلمی محفل، 2013ء میں ایرانی انقلاب کی متنازع تصویر پیش کرنے پر اکیڈمی ایوارڈ پانے والی فلم آرگو ہو یا پھر عراق جنگ کو درست قرار دینے والی ہرٹ لوکر، ناقدین کے پاس آسکر کی ناانصافیوں کا 87 سالہ ریکارڈ ہے لیکن مون لائٹ جیسی چمکدار قسمت نہیں۔

89th Academy Awards - Oscars Awards Show

ایوارڈ کے غلط اعلان کی غلطی شاید آئندہ سال تقریب میں نہ دہرائی جائے ، لیکن کیا غلط ایوارڈز دینے کی پالیسی کا سلسلہ بھی رک پائے گا! یہ سوال اکیڈمی انتظامیہ پر ہی چھوڑ دیا جائے تو مناسب ہوگا۔

USA

ACADEMY AWARDS

Oscar

lala land

Moon light