سندھ میں پینے کیلئے سیورج کا پانی

water commission final 1800 khi pkg 25-02 khurram

کراچی : تعلیم صحت تو دور کی بات سندھ کے باسیوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہے ۔

دریائے سندھ میں چار سو سے زائد مقامات پر سيوريج کا پانی چھوڑا جارہا ہے، مہران وادی کے باشندوں کو کہيں بھي بين الاقوامي معيار کا پاني نہيں مل رہا، واٹرکميشن نے رپورٹ تيار کرکے سپريم کورٹ بھجوادي۔

اہليان سندھ کو بين الاقوامي معيار کا پاني نہيں مل رہا، دريائے سندھ اور مختلف نہروں کے چارسوچودہ مقامات پر سيوريج کا پاني چھوڑا جاتا ہے واٹرکميشن نے سپريم کورٹ کو اپني رپورٹ ارسال کردي۔

ايک سواسي صفحات پر مشتمل رپورٹ ميں بتايا گيا ہے کہ سندھ حکومت نے اعتراف کيا ہے کہ سيوريج کا پاني دريائے سندھ ميں ڈالا جاتا ہے يہي نہيں بلکہ سندھ حکومت کميشن کو بتاچکي ہے کہ صوبے ميں زيرزمين ستاسي فيصد پاني کھارا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیشن کی رپورٹ میں انتظامیہ کی نااہلی اور غفلت کی نشاندہی کی گئی ساتھ ہی رپورٹ ميں آر اوپلانٹس کے منصوبوں ميں کرپشن کي نشان دہي بھي کي گئي ہے

واٹرکميشن کي دوماہ تک سماعت ہوئي جبکہ کميشن نے سندھ کے کئي اضلاع کا دورہ کيا، سندھ حکومت کي پيش کردہ دستاويزات کو بھي کميشن نے اپني رپورٹ کا حصہ بنايا ہے۔ سماء

water issue

indus river

commission Repot

Tabool ads will show in this div