پی ایس ایل فکسنگ اسکینڈل؛ کھلاڑیوں کے نئے بیان میں تضاد ہے

Feb 24, 2017

SHEHERYAR KHAN PC NEW 24-02

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2016/02/SHEHERYAR-KHAN-PC-NEW-24-02.mp4"][/video]

اسلام آباد :چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان نے پی ایس ایل فکسنگ اسکینڈل سے متعلق کہا ہے کہ  کو علم نہیں تھا کہ وہ جس شخص سے ملاقات کر رہے ہیں وہ کوئی پرستار ہے یا بکی۔ دونوں کھلاڑیوں کے نئے اور پرانے بیان میں تضاد ہے۔

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی  میں بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں شہریار خان نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ نئی چیز نہیں۔ دنيابھرميں ہوتي ہے۔ معاملے پر ایکشن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) نے نہیں بلکہ خود پی سی بی نے لیا۔ خالد لطیف اور شرجیل خان کیخلاف ثبوت موجود ہیں۔دونوں کو چارج شیٹ دینے کے بعد تحریری جواب کے لیے 14 روز دیے ہیں۔

شہریار خان نے کہا کہ جہاں ٹی 20 میچز ہوتے ہیں، بکی آ جاتے ہیں۔ ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی بکی آتے ہیں، پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن کی کامیابی کے بعد دوسرے میں بکی آگئے، یہ بکی کھلاڑیوں سے براہ راست رابطہ نہیں کرتے بلکہ رشتہ داروں یا سابق کھلاڑیوں کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔

چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ شرجیل خان اور خالد لطیف کا ریکارڈ کرایا گیا بیان پہلے بیان سے مختلف ہے۔دونوں نے پہلے اقرار کیا کہ بکی سے رابطہ ہوا، اب کہا ہے کہ ہم سمجھے تھے پرستار ہے۔یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ کو مشتبہ شخص سے متعلق اطلاع نہ دے کر انہوں نے غلطی کی۔ شہریار خان نے کمیٹی کو بتایا کہ محمد عرفان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

اس دوران شہریار خان کو سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ چئیرمین قائمہ کمیٹی مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ اسپاٹ فکسنگ کا معاملہ نہ رکنا تشویش ناک ہے،ماضی میں سخت ایکشن ہوتا تو آج یہ واقعات دوبارہ نہ ہوتے۔ فکسنگ کا معاملہ ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

چوہدری تنویرنے آڈیٹرجنرل سے پاکستان کرکٹ بورڈکاآڈٹ کروانےکامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بتایاجائےکرکٹ بورڈکاآڈٹ کون کرتاہے، ملازمین کی تعداداورتنخواہوں کی تفصیلات بتائی جائیں۔ یہ بھی بتایا جائے کہ پی ایس ایل کےپہلےایڈیشن میں کتنامنافع ہوا؟چوہدری تنویر نے کرکٹ بورڈسے تمام سوالات کاتحریری جواب دینے کا مطالبہ کیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے تحریری جواب آنےتک معاملہ موخرکردیا۔ سماء

Shaheryar Khan

Khalid Latif

sharjeel khan

senate standing committee

Tabool ads will show in this div