کالمز / بلاگ

ہاتھ تو کالے ہونگے

Feb 23, 2017

528325722c83f

تحریر : عابد علی عزیمی

کہتے ہیں کہ کوئلوں کے کاروبار میں ہاتھ تو کالے ہو جاتے ہیں یہ جملہ جب ایک ماحولیاتی ماہر کے منہ سے سُنا تو میں حیران ہو گیا پوچھا کہ آپ یہ ایسا کیوں بول رہے ہیں؟ کہنے لگے کیا آپ نہیں جانتے کہ تھر کول پاور پلانٹ کا دوسرا بلاک بہت جلد مکمل ہونے والا ہے جبکہ تھر پارکر میں 175 بلین ٹن کول کے ذخائر موجود ہیں۔ میں بولا یہ تو بہت اچھی بات ہے تھر کا علاقہ کب سے پیاسا ہے وہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ غربت و افلاس دور ہو گا۔ ملک کو جو توانائی کا معاملہ درپیش ہے وہ حل ہو گا۔ میں نے سُنا ہے یہ ذخائر 4000 میگا واٹ کےقریب بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ بولے، ارے میاں! تھر پارکر والے بیچارے پہلے بھی تھر کی گرمی میں جلتے تھے اب وہ کوئلے کے دھویں میں جلیں گئے آپ یہ نہیں جانتے کہ اس کوئلے کے پلانٹس سے ماحول کتنا متاثر ہو گا۔

میں حیران تھا کہ وہ بولے نیشنل امپکٹ ایسسمنٹ پروگرام، پاکستان کے تحت ان پلانٹس کے لگنے سے 22 دیہاتوں کو مختلف مقامات پر منتقل کرنا پڑے گا۔ ان پلانٹس سے زیر زمین پانی گندا ہو سکتا ہے، تھر کے مویشی جو وہاں کے لوگوں کا واحد روزگار کا ذریعہ ہے اُن پر اثر پڑے گا کیونکہ وہ پر جو صحرائی پودے ہیں وہ ختم ہو جائے گئے۔ کوئلے کا دھواں ملک کی فضا پر بے پناہ اثر ڈالے گا۔ اینگر کمپنی کو جو یہ پلانٹ لگا رہی ہے ہر حال میں ماحولیاتی گائیڈ لائنز کو پورا کرنا ہو گا۔ وگرنہ جو ہم پہلے ہی ترقی یافتہ ممالک کے کئے کی سزا بھگت رہی ہیں۔ اس میں مزید اضافہ ہو گیا کیونکہ ہم مزید حدت میں اضافہ برداشت نہیں کر پائینگے۔ ہمارا ملک کا حدود اربعہ ایسا ہے کہ شمالی علاقہ جات میں جو گلشئیرز پگھلتے ہیں۔ انکا پانی اور مون سون کی بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی سے پانی کے بہاو کو روکنا ہمارے لئے ممکن نہیں، ہمارے پاس ڈیمز نہیں جو پانی اسٹور کر سکیں۔

میں پاکستان کی ترقی کا خواہاں تھا بولا، نہیں بھائی ایسا نہیں دُنیا بھی تو کوئلے سے بجلی پیدا کر رہی ہے۔ چائنہ کی ترقی کا دارومدار ہی کوئلے پر ہے، جرمنی، کوریا، امریکہ اور بھارت تک کوئلے سے پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔ ہم بھی ترقی کرینگے۔ وہ ایک دم بولے جناب ترقی کس قیمت پر؟؟؟ کیا آپکے تھر کا کوئلہ اس قابل ہے کہ بجلی پیدا کرے۔ وہ گریڈ اے کا کوئلہ نہیں۔ اسے پہلے ریفائن کیا جائے گا۔ جس سے آپکو بجلی مہنگی پڑے گی۔ ساہیوال پاور پلانٹ میں بھی آپ کوئلے باہر سے منگوا کر استعمال کرینگے۔ کیسی سستی بجلی؟ اس سے سستی بجلی تو متبادل ذرائعوں سے مل رہی ہے۔ سولر انرجی کی صورت میں۔ جبکہ ساہیوال پاور پلانٹ کو عدالت نے پہلے اسی لئے بند کر دیا تھا کہ وہ ارد گرد کے کسانوں کے لئے شدید نقصان دہ تھا لیکن ماحول کے تحفظ کی یقین دہانی پر دوبارہ اجازت مل گئی۔۔۔ یہ ساری باتیں سُن کر میرے پاس جواب کے لئے کوئی الفاظ نہ بچے تھے۔ بولے آپ بھی شاید وہی سوچ رہے ہیں جو میں سوچ رہا ہوں کہ کہیں ترقی کے چکر میں ہم بھی اپنے ہاتھ نہ کالے کر بیٹھیں، حکومت وقت کو سوچنا ہو گا۔

power plants

Coal Project

Thar coal projects

Thar project