فیصلہ کن سماعت؛پی ٹی آئی وکیل کے جوابی دلائل مکمل

Feb 23, 2017

Panama-640x360

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ملکی سیاست کے اہم ترین ’’پاناما کیس‘‘ کی فیصلہ کن سماعت جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے جوابی دلائل مکمل کر لیے۔ پاناما کیس کی سماعت  جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے۔ ۔ بینچ کےدیگر ارکان میں جسٹس شیخ عظمت سعید ،جسٹس اعجاز الاحسن ،جسٹس گلزاراحمد اور جسٹس اعجاز افضل شامل ہیں۔سیکیورٹی خدشات کےباعث کمرہ عدالت میں بھی اضافی اہلکارتعینات ہیں۔ اہم سماعت کے موقع پر متعدد سیاسی رہنما،میڈیانمائندےاوربڑی تعداد میں وکلا موجود ہیں۔

تحریک انصاف کےوکیل نعیم بخاری نے آج جوابی دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روزگلف ملزکےواجبات کا نکتہ اٹھایاتھا جس پر جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ جو بات پہلےکرچکےہیں دہراکروقت ضائع نہ کریں۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ مریم نواز کی دستاویزات میں نے تیار نہیں کیں، جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آپ مریم کی دستاویز کو درست کہتے ہیں جب کہ شریف خاندان اس دستاویز کو جعلی قراردیتا ہے۔  جسٹسس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ عدالت میں دستخط پراعتراض ہوتوماہرین کی رائےلی جاتی ہے، ماہرین عدالت میں رائے دیں تو اُنکی رائے درست مانی جاتی ہے۔ آپ ہمیں خصوصی یااحتساب عدالت سمجھ کرفیصلہ لیناچاہتےہیں۔متنازع دستاویزات کوچھان بین کےبغیرکیسےتسلیم کریں؟سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں جو یہ کام کرے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ یوسف گیلانی کیس میں عدالت ایسا کر چکی ہے، عدالت نے ریمارکس دیے کہ یوسف گیلانی کیس میں عدالت نے توہین عدالت پر فیصلہ کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ یہ وزیراعظم کے اُن اثاثوں کا مقدمہ ہے جو ظاہر نہیں کئے گئے۔ اس دوران نعیم بخاری کمرہ عدالت میں موجود افراد کے گفتگو کرنے پر غصہ ہو گئے جس پر عدالت نے باتیں کرنے والوں کو خاموش رہنے کی ہدایت کردی ۔

جسٹس اعجاز افضل نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ کیا ایسی دستاویز کو ثبوت مانا جاسکتا ہے،کیا ہم قانون سے بالاتر کر جاکر کام کریں؟۔ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں بہت سے قوانین وضح کرچکی ہے، ہمیشہ غیرمتنازع حقائق پر فیصلے کئے گئے۔کیا184 تھری کے مقدمہ میں قانونی تقاضوں کو تبدیل کر دیں؟جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ ہم بنیادی حقوق کا معاملہ سن رہےہیں،مقدمہ ٹرائل کی نوعیت کا نہیں۔ اس دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے یہ بھی کہا کہ آج میری طیبعت ٹھیک نہیں، زیادہ تنگ نہ کرنا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ فریقین کی دستاویزات کا ایک ہی پیمانے پر جائزہ لیں گے،یہ تصدیق شدہ ذرائع سے نہیں آئیں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ وزیراعظم نےاپنےخطاب میں سچ نہیں بولا،میرے وزیراعظم نے ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وزیراعظم اوران کے بچوں نےموزیک فونسیکا کو کوئی قانونی نوٹس نہیں بھجوایا۔ میں گیلانی کیس کی طرح میں عدالت سے ڈکلیریشن مانگ رہاہوں۔ 1980 سے 2004 تک قطری شیخ بینک کا کردار ادا کرتے رہے۔ سالہاسال تک قطری مراسم کاکوئی ذکرنہیں کیاگیا۔ کیاایسا شخص وزیراعظم رہنےکااہل ہوسکتا ہے؟نعیم بخاری نےنکتہ اٹھایا کہ قطری کو ایل این جی کا ٹھیکہ بھی دیا گیا، یہ بات اخبارمیں پڑھی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ قطری ٹھیکے والی بات مفادات کے ٹکراؤکی جانب جاتی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے ایل این جی کا معاملہ نہیں۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے اپنے جوابی دلائل میں مزید کہا کہ کیا دنیا میں کسی نے پاناما لیکس کو چیلنج کیا ہے، حدیبیہ کیس منی لانڈرنگ کامرکزہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ قطری خط کےمطابق8ملین التوفیق میں انہوں نےاداکئے،دستاویز پر نہ کوئی دستخط ہیں نہ کوئی تاریخ ،ادائیگی کس سال میں کی گئی وہ وہ بھی درج نہیں۔  نعیم بخاری نے کہا کہ لگتا ہے جیسے گھٹیوں کی صورت میں ادا کیے گئے،بینکوں کے ذریعے کوئی ٹرانزکشن نہیں ہوئی،قطری سمجھتےہیں اُنکی ہربات ہم سرجھکاکرمان لیں گے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہغیرتصدیق شدہ دستاویز مسترد کرنا شروع کیں تو 99فیصدکاغذات فارغ ہوجائیں گے۔ ایسی صورت میں ہم واپس اُسی سطح پرآجائیں گےجہاں پہلےدن تھے۔

جوابی دلائل مکمل ہونے کے بعد نعیم بخاری نے کہا کہ میری اہلیہ بھی آج کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔ اہلیہ کے سامنے نہ ڈانٹنے پر آپ کا مشکور ہوں۔

PM Nawaz Sharif

Panama leaks

panama case

Tabool ads will show in this div