کراچی میں بےلگام پبلک ٹرانسپورٹ

Public Transport khi pkg 31-01 khurram

تحریر: کامران اسلم ہوت

کراچی میں حادثات تو روز کا معمول ہیں۔ آئےدن ہم اخبارات اور ٹی وی پر ان حادثات کے بارے میں پڑھتے اور دیکھتے ہیں۔ اتنے حادثات ہونے کی وجہ سے اب ہم ان حا دثات کو اہمیت نہیں دیتے۔ پچھلے ہفتے کراچی میں یونیورسٹی روڈ اور پٹیل پاڑہ میں بس حادثے میں طالبعلموں کی ہلاکت پر بہت دکھ اور افسوس ہوا۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والے طالبعلموں کے اہلِ خانہ کو اللہ تعالیٰ صبرِ جمیل عطا کرے۔

1947 کے بعد کراچی پاکستان کا کیپیٹل سٹی تھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہت شاندار تھا۔ یہاں ٹرام، ڈبل ڈیکر بسیں اور بڑی بسیں چلتی تھیں۔جب ترقی کادورشروع ہواتوپاکستان میں بہت غیرملکی فرموں نے بھی اپنی کمپنیاں کھولیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی کی آبادی میں اضافہ اور شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی ضروریات بڑھتی جا رہی تھیں۔ سن 1975 اور 1976 میں کراچی میں منی بسوں کا آغاز ہو ا۔ 1990کی دہائی میں کراچی میں منی بسوں کے ساتھ کوچز کا بھی آغاز ہوا۔ اُس زمانے میں منی بسوں کے کرایہ کوچز کے نسبتاً کم تھے۔ اگر کوچزوالے 5روپے کرایہ لے رہے تھے تو منی بس والے 1.5 روپے کرایہ لیتے تھے۔ یہ ٹرانسپورٹ مافیا کاشروع کا دور تھا۔ اس کے مقابلے میں حکومت کی جانب سے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی تھی اور ٹرانسپورٹ مافیا مضبوط ہوتا جارہا تھا۔

KARACHI, PAKISTAN, JAN 05: People travel on an overloaded passenger vehicle due to non-availability of public transport as residents of city are facing problems during closure of gas at compressed natural gas (CNG) stations in Karachi on Thursday, January 05, 2012.  (Rizwan Ali/PPI Images).

میں نے اپنی زندگی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بے لگامی کی دو چیزوں کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ ایک ٹوکن سسٹم اور دوسرا اُسی روٹ کی آگے والی گاڑی سے مقابلہ کرنا۔ ٹوکن سسٹم بسوں،منی بسوں اور کوچز میں یکساں رائج ہے۔ اس سسٹم کے تحت جب گاڑی اپنے اڈے سے نکلتی ہے تو اسے ایک ٹوکن دیا جاتا ہے اور اس پر دو مختلف ٹائم درج ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اڈے سے گاڑی نکلی تھی، دوسرا وہ جو اس مقررہ وقت تک اپنی ٹیم کے دوسرے شخص تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اس بیچ ڈرائیور کے پاس ٹائم بہت کم ہوتا ہے۔ اس دوران ڈرائیور بہت تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا ہے اور اس کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ میں اپنے ٹائم تک اپنی منزل پر پہنچنا۔ اس کےلئے چاہے انسانی جانوں کا زیاں ہو جائے، اُسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ عموماً ڈرائیور اور مسافر کے درمیان اس تیز رفتاری سے تکرار بھی ہوتی کبھی کبھار یہ تکرار جھگڑے کی صورت اختیار کرتا ہے۔ مجال ہے ڈرائیور اپنے کیے پر شرمندہ ہو۔ہمارے ٹریفک پولیس والے ان چیزوں کو روکنے سے بالکل قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا دوسرا اور ٹوکن سے خطرناک اپنے روٹ کی آگے والی گاڑی سے مقابلہ کرنا ۔یہ ٹوکن سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ٹوکن ایک مقررہ وقت تک ختم ہو جاتا ہے۔ اگر اسی روٹ کی گاڑی کے ساتھ مقابلہ ہو جائے تو وہ ایک اڈے سے دوسرے اڈے تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران ڈرائیوروں کو کچھ دکھائی نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ اس گاڑی کو کراس کر کے آگے جانا ہے۔

TRANSPORT FARES KHI PKG ALI 01-03

اس بے لگامی میں یونیورسٹی روڈ اور پٹیل پاڑہ جیسے حادثات رونما ہوتے ہیں اگر اس بے لگامی کا کوئی سدِباب نہیں کیا تو مستقبل میں مزید حادثات ہمارے منتظر ہوں گے۔اس وقت کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ ہے اور شہر میں 335 پبلک ٹرانسپورٹ روٹس پر صرف 135 روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہے باقی 220 روٹس ختم ہو چکے ہیں۔ ان روٹس پر چلنی والی گاڑیوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ پھر بھی ان کو فٹنس سرٹیفکٹس مل جاتا ہے او ر و ہ روڈ پر چل رہی ہوتی ہیں۔ ان گاڑیوں چلانے کا کوئی سسٹم موجود نہیں ہے۔ مختلف حکومتوں کی جانب ماضی و حال میں کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ میں جو سرمایہ کاری کی گئی وہ ناکافی رہی اوراُس کو بھی ہماری کرپشن اور نااہلی نگل گئی ۔ کوئی سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ مافیا مزید بے لگام ہوتا گیااور حکومتوں کی گرفت پبلک ٹرانسپورٹ پر کمزور ہوتی چلی گئی۔ماضی میں حکومت نے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ میں کرایہ میں کمی کی تھی لیکن کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے کرایہ میں کمی سے انکارکر دیا تھا حالانکہ 90 فیصد گاڑیاں سی این جی پر چل رہی تھیں اور کرایہ ڈیزل کا وصول کررہے تھے اورآج تک وصول کر رہے ہیں۔ حکومت اس معاملے میں بے بس تھی اوروہ کچھ بھی نہ کرسکی ۔اس کے علاوہ ان گاڑیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح سفر کرنا ایک اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ کنڈیٹر کی بدتمیزی الگ مسئلہ ہے۔

 کراچی کے شہری پبلک ٹرانسپورٹ اس بے لگامی کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں اور حکومتِ وقت سے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کب اس پبلک ٹرانسپورٹ کی بے لگامی اور ٹرانسپورٹ مافیاسے گرین لائن بس اور کراچی سرکلر ریلوے کی صورت میں آزادی نصیب ہو۔

transport issue

Mass Transit

GREEN LINE

Tabool ads will show in this div